وکی لیکس کے اہم کردار کی زندگی کے 20 دلچسپ حقائق

وکی لیکس کے بانی جولین اسانچ (Julian Assange ) کی متاثر کن لیکن متنازعہ طرزِ زندگی دنیا بھر میں دنیا بھر میں بحث مباحثے کی وجہ بنتی رہی ہے اگرچہ ان کی ویب سائٹ 2006سے کام کر رہی ہے لیکن اسے شہرت کی بلندیاں اسٹیٹ اینڈ ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ کی بہت سی خفیہ دستاویزات کو منظرِعام پر لانے سے ملی جس میں ایک قیدی چیلسیا میننگ (Chelsea Manning) کی 35سالہ سزا بھی شامل تھی۔
حال ہی میں ویب سائٹ ایک بار پھرعالمی توجہ کا مرکز بن گئی جب اس نے 2018کی ہیلری کلنٹن کی امریکی صدارتی انتخابی مہم کی بہت سی ای میلز ہیک کر کے شائع کر ڈالیں
اکتوبر2016میں وکی لیکس کو دس سال مکمل ہو گئے ہیں لیکن اب بھی اس ویب سائٹ کے بانی کے بارے میں بہت سارے دلچسپ حقائق سے بیشتر لوگ ناواقف ہیں
:1 مسٹر جولین اسانچ کو اپنے ابتدائی ایام میں والدہ کے ایک برافروختہ بوائے فرینڈ کی وجہ سے 50دفعہ نقل مکانی کرنی پڑی اور 37مختلف سکول اور 6 یونیورسٹیاں بدلنی پڑیں ۔زیادہ تر اس کی والدہامریکی صدارتی انتخابی مہم کی بہت سی ای میلز ہیک کر کے شائع کر ڈالیں
اکتوبر2016میں وکی لیکس کو دس سال مکمل ہو گئے ہیں لیکن اب بھی اس ویب سائٹ کے بانی کے بارے میں بہت سارے دلچسپ حقائق سے بیشتر لوگ ناواقف ہیں۔
:1 مسٹر جولین اسانچ کو اپنے ابتدائی ایام میں والدہ کے ایک برافروختہ بوائے فرینڈ کی وجہ سے 50دفعہ نقل مکانی کرنی پڑی اور 37مختلف سکول اور 6 یونیورسٹیاں بدلنی پڑیں ۔زیادہ تر اس کی والدہ اس کو گھر میں ہی پڑھاتی تھی
:2 حقائق سے پردہ اٹھانے کی وجہ سے اسے نہ صرف بہت سارے قابلِ قدر دوست ملے بلکہ اس کے دشمن بھی ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں۔جن میں سے ایک امریکی حکومت بھی ہے کیونکہ اس نے افغان جنگ سے متعلق 90,000خفیہ دستاویزات کو طشت از بام کر دیا ہے اور اس کی سائٹ پرمتعدد ویڈیوز بھی موجود ہیں جن میں عراق میں امریکی ہیلی کاپٹر کی صحافیوں اور عراقی عوام پر فائرنگ کی انتہائی پذیرائی حاصل کرنے والی ویڈیو بھی ہے۔دوسرے قابلِ ذکر دشمنوں میں چرچ آف سائنٹالوجی
،رشین سٹیم سیل سینٹرز،اور کینیا کے صدر شامل ہیں.
:3 جولین سولہ سال کی عمر سے ہیکنگ کر رہا ہے اس نے وورمز اگینسٹ نیوکلئیر کلرز (the Worms against Nuclear Killers) کے نام سے ایک ادارہ بنا رکھا ہے جس کا سخت اصول ہے کہ وہ معلومات میں تحریف کیے بغیر عوام کے لیے پیش کر دیتے ہیں اس کے قابلِ ذکر ہیکنگ حملوں میں سے کینیڈین ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن نارٹیل (Nortel)پر 1991میں کیا گیا ہیکنگ حملہ بھی شامل ہے جس پر اسے سزا بھی ہوئی پر وہ کبھی جیل میں نہیں گیا
:4 ایکواڈور کی طرف سے 2012میں پناہ ملنے کے بعد سے مسٹر اسانچ برطانیہ میں ایکواڈور کے سفارتخانے میں سکونت پذیر ہیں۔یہ بھی کہا جاتاہے کہ پناہ کے ابتدائی دو ماہ تک اس کا کونسل فیدل ناروائز(Fidel Narvaez )اسے کسی قسم کے سیاسی دشمنی سے محفوظ رکھنے کے لیے سفارت خانے میں ہی مقیم رہا
:5 اپنی اکتالیسویں سالگرہ پر اس نے ایواڈورین ایمبیسی کے باہر اس کی حفاظت کے لیے اکٹھے ہوئے ہر فرد کے لیے کیک بھیجا.
:6 2012میں اس نے سمسنز کی 500ویں قسط میں مہمان اداکاری بھی کی جس کے لیے اس نے اپنے مکالمے ایکواڈورین ایمبیسی سے فون پر ریکارڈ کروائے
:7 اسیری سے قبل مسٹر اسانج نے اپنا زیادہ تر وقت سویڈن میں گزارا کیونکہ وہاں کے قوانین صحافیوں کے حق میں بہت نرم ہیں
:8 سائنسی صحافت سے خود کو منصوب کرتے ہوئے مسٹر اسانج کہتے ہیں کہ وہ پوری کی پوری معلومات عوام تک پہنچا دیتے ہیں جس سے نتیجہ اخذ کرنے میں عوام آزاد ہیں بالکل اسی طرح جیسےسائنسدان حقائق کو تجزیئے کے لیے پیش کر دیتے ہیں
:9 بچوں کے درمیان اسانج کا برتاؤ انتہائی عمدہ ہوتا ہے اگرچہ عموماً ان کو ایک بہت برا مہمان سمجھا جاتا ہے اوروہ 14 سال سے اپنے بیٹے کی تنِ تنہا پرورش بھی کر رہے ہیں۔اٹھارہ سال کی عمر میں شادی کرنے کے کچھ ہی عرصے بعد ان میں اور ان کی اہلیہ کے مابین علیحدگی ہو گئی تھی اور ایک طویل قانونی جنگ کے بعدانہیں ان کے بیٹے کی مشترکہ تحویل میسر ہوئی
:10 (Fifth Estate) کے نام سے وکی لیکس پربننے والی فلم پر انہوں نے بہت برہمی کا اظہار کیا اور اسے ایک بہت بڑا پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے برا ہِ راست (Benedict Cumber batch )سے رابطہ کر کے اُس پرِ اِ س فلم سے باز رہنے کے لئے زور ڈالا
:11 ہیکنگ پر ایک کتاب(Underground: Tales of Hacking Madness and Obsession on the Electronic Frontier) کے اسانج معاون مصنف بھی ہیں

:12 انتشار اور شیطانیت سے مقابلہ میں اسانج موخرالذّکر کے حامی ہیں
:13 اسانج 16سال کی عمر سے مینڈیکس (Mendax)کے نام سے ہیکنگ کر رہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ “شریفانہ راست گو”
:14 دنیا بھر سے ملنے ولے عطیات کے لیے وکی لیکس مشہور ہے صرف ہیلی کاپٹر کی فائرنگ والی ویڈیو دکھانے کے بعد اسے 200,000امریکی ڈالرز عطیا ت موصول ہوئے
:15 بہت سارے اہم افراد کی میزبانی بھی عطیات کی وصولی کے لیے ایمبیسی میں قیام کےدوران مسٹر اسانج کے حصے میں آ چکی ہے چونکہ ویب سائٹ محض عطیات کے بھروسے پر چل رہی ہے
:16 8۔اکتوبر 2016 کو ایکواڈور نے تصدیق کی کہ انہوں نے جان بوجھ کر اسانج کا انٹرنیٹ کنکشن محض عارضی طور پر منقطع کیا ہے نہ کہ اسے نکالنے کے لیے یہ صرف ایک حفاظتی اقدام ہے کیونکہ ایکواڈور حکومت اسانج کی سیاسی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہونا چاہتی۔اور پابندی کے باوجود وِکّی لیکس اپنی صحافتی سرگرمیاں جاری رکھنے میں آزاد ہے۔تاہم کچھ افراد اس پابندی کو ایکواڈور کی اسانج کے قیام کی طوالت پر پریشانی کا پہلا اشارہ قرار دے رہے ہیں
:17 انٹر نیٹ کنکشن منقطع ہونے کے بعد سے اسانج کے حامی اس کی زندگی کا ثبوت طلب کر رہے ہیں کیونکہ اس وقت کے بعد کسی نے اسانج کو دیکھا ہے نہ اس سے بات کی ہے ۔ انٹر نیٹ پر اس کی کچھ جھوٹی تصاویر گردش کرتی رہیں مگر پکڑی گئیں۔مزید برآں ایک افواہ کے مطابق کنکشن منقطع کرنے کے وقت ایک برطانوی ہیلی کاپٹر کو مغربی ورجینیا کے علاقے میں اترتے دیکھا گیا تھا ۔
:18 اسانج نے قیام کے لیے برطانیہ میں ایکواڈورکے سفارتخانے کو اس لیے منتخب کیا
کیونکہ اس کی ممکنہ حوالگی کی صورت میں اس کو پہلے سویڈن کے حوالے کیا جائے جہاں وہ حملہ کیس کے الزامات کا سامنا کرے گا اور پھر وہاں سے جاسوسی کے الزامات بھگتنے کے لیے امریکی تحویل میں جائے گا۔ تاہم ایکواڈورین ایمبیسی نے18۔اکتوبر 2016کو اپنی ویب سائٹ پر دوبارہ اسانج کوچار سال پہلے دی جانے والی پناہ کی تصدیق کی ہے
:19 اسانج اوار ٹرمپ کے تعلقات کی افواہیں وسیع پیمانے پر گردش کرتی رہی ہیں کہ اسانج ٹرمپ کو مدد دینے کے لیے ہیلر ی اور اس کے حامیوں کی ہزاروں ی میلز کی بیخ کنی کرتے رہے ہیں کلنٹن کےقومی ترجمان کی طرف سے جاری کردہ 18ٹویٹس کی سیریز بھی اس بات کا ثبوت ہیں جن میں اسانج پرانہی الزامات کی بوچھاڑ کی گئی ہے
:20 اگرچہ اسانج کو ممکنہ طور پر سویڈن میں زیادتی اور زنا بالجبر کے الزامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن سٹیچوٹ آف لیمیٹیشن(the Statue of Limitations ) جو کسی جرم کے خلاف شکایت کی زیادہ سے زیادہ میعاد کی حد مقرر کرتا ہیکی دی گئی میعاد تیزی سے ختم ہو رہی ہے ۔ زنا بالجبر اور زبردستی کے الزامات 2012میں اسی وجہ سے ختم ہو چکے ہیں ۔تاہم زیادتی کے الزامات کی میعاد ابھی2020 تک باقی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسانج کی ایکواڈورین ایمبیسی میں پناہ لینے کی ایک وجہ یہ الزامات بھی ہیں۔کیونکہ اسے ڈر تھا کہ اسے امریکہ کے حوالے کر دیا جائے گا جہاں اسے سزائے موت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے.

2010 میں برطانیہ کے گارڈین میگزین کی برطانیہ میں سب سے زیادہ اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کی فہرست میں اٹھاونوے درجے پر جگہ پا جا نے سے جولین اسانج بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی مہمات میں ایک سرکردہ حیثیت حاصل کر چکا ہے2016 میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اقوامِ متحدہ کے ایک فیصلے کا تذکرہ کیا ہے جس کے مطابق اسانج کو آزادانہ نقل و حرکت کی آزادی دی گئی ہے اور اس کو آزادی سے محرومی کے ہرجانے کا حقدار بھی قرار دیا ہے۔لیکن اس فیصلے کے باوجود برطانوی محکمہِ خارجہ کا خیال ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور وہ مناسب وقت پر اس فیصلے کے خلاف مزاحمت کے لیے تیار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں