موسموں کو کنٹرول کرنےکا سب سے بڑا منصوبہ

دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین نے اپنے شمال مغربی بارانی علاقوں میں بارشوں کو بڑھانے کے لیے 1.5بلین ین کی لاگت سے منصوبے کاآ غازکیا ہے جو تقریباً 168ملین ڈالرز کے برابر بنتے ہیں۔
ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ نامی جریدے کے مطابق چائنہ کی معاشی منصوبہ سازی کے افسران نے حال ہی میں موسم کو تبدیل کرنے کے ملک کے سب سے بڑے منصوبے کی منظوری دی ہے۔جریدے کے مطابق ملک کے موسمیاتی ادارے کی ایک تحقیق نے ظاہر کیا ہے کہ تین سالہ اس منصوبے سے 960,000مربع کلومیٹر پر محیط علاقے میں بارشوں میں اضافہ لا سکتا ہے۔نیشنل ڈیویلوپمنٹ اینڈ رفارم کمیشن کی جانب سے مختص کیے گئے کئی ملین ڈالرز کے بجٹ سے چار نئے جہازوں کی خریداری اور پہلے سے موجود آٹھ جہازوں کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ900 راکٹ لانچ سسٹمز اورتقریباً 1800 سے زیادہ ڈیجیٹل کنٹرول آلات کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے گاچائنہ پہلے ہی بارشیں برپا کرنے کے لیے سلور آئیوڈائڈ اور خشک برف کی مدد سے ابر کاری کی تیکنیک کو اتنے بڑے پیمانے پر بروئے کار لا رہا ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔ عام طور پر قحط سالی میں بارشیں برسانے کے مصنوعی طریقوں کو ملک پہلے ہی دوسرے مقاصد جیسے کہ 2008کے بیجنگ اولمپکس کے لیے مطلع صاف کرنے کے لیے،گرمیوں کی شدت کو کم کرنے اور ہر سال بڑے شہروں کی فضا پر چھاجانے والے گھٹن آمیزدھند اور دھویں کو دھو ڈالنے کے لیے استعمال کرنے میں مشہور ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں