ایک کامیاب کیرئیر کا انتخاب کیسے کیا جائے؟

 career

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے؟

* جدید میڈیکل سائنس نے لاکھوں ڈاکٹرز تو پیدا کر دیئے لیکن کوئی ایک بھی حکیم لقمان پیدا نہ کر سکی۔کیوں؟؟
* ہماری ذہانت اور تخلیقی صلاحیتیں ڈگریوں کے انبار تلے دب کر کیوں رہ گئی ہیں؟
* ہمارے معاشرے میں ڈاکٹروں اور انجینئروں کی ایک کثیر تعداد بیروزگار کیوں ہے؟
* ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈگری ہولڈر اکثر ایک کم تعلیم یافتہ بزنس مین کا ملازم کیوں بن جاتا ہے؟

کیرئیر کیا ہے (What is a career)

ٓآکسفوڈ ڈکشنری کے مطابق:

A person’s “course or progress through life (or a distinct portion of life)”.
یعنی کسی انسان کا طرزِ زندگی یاایک کامیاب زندگی گزارنے کے لئے کوئی انسان جس پیشے کا انتخاب کرتا ہے وہ اس کا کیرئیر کہلاتا ہے۔
اگر یہ انسان کا طرزِ زندگی ہے تو پھر اس کی سوچ،اس کا علم و ہنر، اس کی عقل و دانش، اس کی صلا حیتیں اور مہارتیں اور اس کی خوبیاں اور خامیاں۔یہ سب اجزاء مل کر ہی اس کے طرزِ زندگی کی تشکیل کر سکتے ہیں۔لیکن ان تمام اجزاء کی نشو و نما تعلیم و تربیت کا تقاضا کرتی ہے۔لہٰذا ایک مناسب تعلیم و تربیت کے حصول کے بغیر ایک بہتر اور معیاری طرزِ زندگی کا حصول ممکن ہی نہیں ہے۔
ایک درست کیرئیر کا انتخاب وہ فیصلہ کن مرحلہ ہے جو آپ کی زندگی کا معیار بدل سکتا ہے۔مگر اس فیصلے کے لئے بہت سوچ بچار اور گہرے تجزیے کی ضرورت ہوتی ہے۔وسیع تر معلومات اور اپنی مہارتوں اور صلاحتوں کا صیح ادراک اور تجزیہ ایک درست کیرئیر کے انتخاب میں مدد کر سکتا ہے۔

حقائق:

2010 کے ایک سروے کیمطابق:
60% سے زیادہ ورکرز اپنے کام سے مطمئن نہیں ہوتے۔
60% لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر انھیں دوبارہ شروعات کا موقع ملے تو وہ کسی اور شعبے کا انتخاب کریں گے۔
20% لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ زندگی میں انھیں وہ کردار نہیں ملا جو وہ بہتر طور پر ادا کر سکتے تھے۔
30% پروفیشنل افراد یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی صلاحیتیں کسی اور پروفیشن کے لئے زیادہ سوٹ ایبل تھیں۔
51% لوگ اپنے کیرئیر کے انتخاب پر پشیمان ہوتے ہیں۔
صرف 20%افراد ہی اپنے کام کی نوعیت سے مطمئن نظر آتے ہیں۔
تاہم یہ انتہائی غور طلب نقطہ ہے کہ 1987ء میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق60% افراد اپنے پیشے سے خوش تھے۔
مندرجہ بالا اعدادو شمار عالمی سطح پر منعقد کیے گئے سروے کے ہیں اور اس میں مغربی معاشرے پر زیادہ فوکس کیا گیا ہے جہاں کیریئر کاؤنسلنگ کے باقائدہ ادارے قائم ہیں اور معلومات کا ایک سمندر بہتا نظر آتا ہے۔
پاکستان جیسا ملک جہاں شرح خواندگی پچاس فیصد سے بھی کم ہے اور کیرئیر کاؤنسلنگ کو ایک باقائدہ ادارے کا درجہ ہی حاصل نہیں ہے معاملہ اس سے بھی زیادہ گمبھیر نظر آتا ہے۔

وہ عناصر جو کیرئیر کے انتخاب پر اثر انداز ہوتے ہیں

* آبائی پیشہ:

ہمارے ملک کی تقریباً70%آبادی دیہات میں مقیم ہے جہاں وقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق تبدیلی کا رجحان بہت کم ہے۔ایسے ماحول میں لوگ کسی نئے شعبے یا ذریعہ آمدنی کے انتخاب کے بجائے اپنے آبائی پیشے یا کارو بار کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔تاہم شہروں میں بھی کیرئیر کے انتخاب کے لئے زیادہ تر اسی اصول کو اپنایا جاتا ہے۔لہٰذا یہ وہ پہلا عنصر ہے جو ایک طالبعلم کے کیرئیر کے انتخاب پر اثر انداز ہوتا ہے۔

* رجحان ؍شوق:

کسی فرد کا ذاتی رجحان یا شوق بھی کیرئیر کے انتخاب پر اثر ڈالتا ہے۔مثلاً اگر کوئی فرد کھیلوں میں دلچسپی رکھتا ہے اور اسمیں ایک اچھا کھلاڑی بننے کی تمام صلاحیتیں بھی موجود ہیں تو وہ یقیناً اسی شعبے کے انتخاب کی کوشش کرے گا۔

* ماحول:

کسی شخص کا ماحول،تہذیب و ثقافت اور کلچر وہ اہم عناصر ہیں جو ماحول پر اثر انداز ہوتے ہیں۔کیونکہ تہذیب و ثقافت ہماری سوچ کی تشکیل کرتے ہیں اور یہی سوچ کیرئیر کے انتخاب کیوجہ بنتی ہے۔

* دولت کمانے کا جنون:

اکثر اوقات دولت کمانے کا جنون بھی پیشے کے انتخاب ہر اثر ڈالتا ہے۔لہٰذا جو شخص دولت مند بننا چاہتا ہے وہ نوکری کی بجائے کاروبار کو ترجیح دیتا ہے۔

* ٹیلنٹ:

قدرت کی طرف سے ودیعت کردہ کوئی صلاحیت بھی اکثر اوقات کسی خاص شعبے کے انتخاب کا سبب بنتی ہے۔مثلاً ایک رائیٹر قدرتی طور پر رائیٹر ہوتا ہے خواہ وہ اس کے لئے کوشش کرے یا نا کرے۔

* حالات و واقعات:

ہمارے ملک میں اکثر اوقات کسی فیلڈ کا انتخاب سوچ سمجھ کر یا باقائدہ پلاننگ سے نہیں کیا جاتا بلکہ حالات و واقعات یا کوئی اچانک تبدیلی ہی اس کا سبب بن جاتی ہے ۔

* معلومات کا فقدان:

ہمارے معاشرے کا زیادہ تر طبقہ ایک محدود دائرہ کار میں زندگی بسر کرتا ہے۔اس لئے جدید معلومات کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔معلومات کا یہ فقدان کیرئیر کے انتخاب کو بہت زیادہ متاثر کرتا ہے۔

* مسائل اور الجھنیں:

ہمارے معاشرے میں اکثر اوقات بے پناہ مسائل اور الجھنوں کی حد بندیاں ایک فرد کو آزادانہ کیرئیر کے انتخاب کی اجازت نہیں دیتیں اور وہ ضرورتوں کی پٹڑی پر چل کر ہی منزل پر پہنچنے کی کوشش کرتا رہتا ہے�ۂ* نئے رجحانات:
خاص طور پر ہمارے ملک کا پڑھالکھا طبقہ کیرئیر کے انتخاب میں نئی ٹیکنالوجی اور جدید رجحانات اپنانے کو ترجیح دیتا ہے۔

* رہنمائی کا فقدان:

کیرئیر کاؤنسلنگ کا رجحان ہمارے ملک میں نہ ہونے کے برابر ہے۔مناسب رہنمائی کا یہ فقدان کیرئیر کے انتخاب کو شدید متاثر کرتا ہے۔

اس آرٹیکل میں ان عناصر اور عوامل کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو کیرئیر کے انتخاب پربراہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔اوران اقدامات کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے جن کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایک درست کیرئیر کے انتخاب میں مدد مل سکتی ہے۔
ٓاہم اقدامات:

quotations-on-Hope-By-Robert-green-qalmad-Quotes

1: والدین کا کردار

کسی بچے کا رویہ اس کی شخصیت،صلاحیتوں ،کمزوریوں،خوبیوں اور خامیوں کا مظہر ہوتا ہے۔اور بچے کے رویے سے والدین سے زیادہ کوئی واقف نہیں ہوتا۔اس لئے کیرئیر کے انتخاب میں والدین بہترین رہنما ہو سکتے ہیں۔بدلتے ہوئے وقت کے تقاضے والدین سے اب پہلے سے زیادہ ذمہ داری کا تقا ضا کرتے ہیں۔مگر ہمارے یہاں اکثر والدین کم تعلیم اور لاعلمی کے باعث کیرئیر پلاننگ کا یہ فریضہ درست طور پر انجام دینے سے قاصر ہیں۔ مگر کچھ سمجھدار والدین ایسے بھی ہیں جو بچوں کی رہنمائی کے لئے خود کو جدید دور کی معلومات سے آگاہ رکھتے ہیں۔

2: ذہنی سطح کا تجزیہ

کیرئیر پلاننگ میں ذہنی معیار کا تجزیہ نہایت اہم امر ہے۔ہر شعبہ ایک خاص ذہنی معیار کا تقاضا کرتا ہے نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ۔ایک عام ذہنی سطح کا حامل فرد کبھی اس فیلڈ میں ترقی نہیں کر سکتا جہاں بہترین ذہنی صلاحیتوں کی ضرورت ہو۔

3: صلاحیتوں کا ادراک

اگر آپ کسی ایسے شعبے کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں جہاں ترقی کے بیشمار مواقع موجود ہوں۔تو پھر آپ بہترین شعبوں کا مطالعہ کرنے سے پہلے اپنی صلاحتوں کا مطالعہ کیجیے۔ایک آرٹسٹک ذہن رکھنے والا شخص آرٹ یا ڈیزائن کے کسی شعبے میں ہی ترقی کر سکتا ہے نہ کہ میڈیکل کے شعبے میں چاہے یہ شعبہ کتنا ہی مقبول کیوں نا ہو۔

4: اساتذہ کا کردار

ایک اچھا اور قابل استاد اپنے شاگرد میں چھپی صلاحیتوں اور پوٹینشل کو با آسانی جانچ لیتا ہے۔اسی لئے ترقی یافتہ ملکوں میں اساتذہ کی ٹریننگ پر بہت توجہ دی جاتی ہے ۔ایک استاد بہت دیانتداری سے ناپختہ ذہن کو کامیاب زندگی گزارنے کا راستہ بتا سکتا ہے۔

5: تعلیمی ادارے کا انتخاب

ایک بہتر تعلیمی ادارے کا انتخاب ایک بہتر کیرئیر کے انتخاب میں بہت معاون ہو سکتاہے۔ایک اچھے ریکارڈ اور اچھی شہرت رکھنے والے تعلیمی ادارے کا انتخاب کیرئیر پلاننگ کی جانب ایک اہم قدم ہے کیونکہ تعلیمی ادارے کا ماحول طالبعلموں کی شخصیت پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔

6: مضامین کا انتخاب

سوچ سمجھ کر اور اپنی ذہنی صلاحیتوں اور دلچسپی کے مطابق مضامین کا انتخا ب ایک کامیاب کیرئیر کی ضمانت ہے۔ہمارے یہاں اکثر والدین بچوں کو اپنی پسند کے مضامین پڑھنے پر مجبور کرتے ہیں۔زیاداہ تر والدین بچوں کو ڈاکٹر یا انجینئیر بنانا چاہتے ہیں۔ڈیزائننگ میں دلچسپی رکھنے والا ایک بچہ والدین کی خواہش کے مطابق ایک ڈاکٹر تو بن سکتا ہے لیکن کبھی اس شعبے میں وہ نام پیدا نہیں کر سکتا جتنا وہ شاید ڈیزائننگ کے شعبے میں کر سکتا ہو۔لہٰذا کیرئیر کے انتخاب میں دلچسپیوں اور رجحان کو مدِنظر رکھنا زیادہ ضروری ہے نا کہ خواہشوں کو۔

7: مالی حیثیت کا ادراک

تعلیمی ادارے ،مضامین اور کیرئیر کا انتخاب کرتے وقت اپنی مالی حیثیت کو مدِنظر رکھنا ایک دانش مندانہ سوچ کی علامت ہے۔اکثر کوگ اپنی مالی حیثیت سے بڑھ کر مہنگے تعلیمی اداروں کا انتخاب کرتے ہیں۔یہ انتخاب اکثر اوقات مالی مسائل ، احساسِ کمتری اور ذہنی انتشار کو جنم دیتا ہے۔ اور تعلیمی ترقی کے یہ سال جو مکمل ذہنی یکسوئی کا تقاضا کرتے ہیں ان مسائل میں گھرے اکثر طالبعلموں کو منزل سے قریب کرنے کے بجائے مزید دور کر دیتے ہیں۔اپنی مالی حیثیت کے مطابق تعلیمی ادارے اور کیرئیر کا انتخاب میں نہایت اہم ہے۔

8: مقصد کا تعین

آپ زندگی میں کیا بننا چاہتے ہیں اور کیا کرنا چاہتے ہیں،آپ کا مقصد کیا ہے ؟ان سوالات کا جواب کیرئیر کے انتخاب میں بہترین رہنما ثابت ہو سکتا ہے۔اور اگر آپ دیانتداری اور لگن کیساتھ اپنے مقاصدسے جڑے رہیں تو منزلیں خود راستے بناتی ہیں۔مگر یاد رہے کہ کامیابی محض خواہش سے نہیں بلکہ محنت وکوشش سے ہی ممکن ہے۔

9: حقائق کاادراک

کیرئیر کا انتخاب کرتے وقت زمینی حقائق کا ادراک نہایت اہم امر ہے کہ خواب اور خواہشیں راستے کا تعین نہیں کر سکتیں بلکہ ایک حقیقت پر مبنی سوچ ہی درست رہنمائی فراہم کر تی ہے۔لہٰذا اپنی پہنچ اور وسائل کی حقیقت سے چشم پوشی اورغیر حقیقی سوچ کو ترک کرکے ہی آپ اس سلسلے میں کوئی معقول فیصلہ کر سکتے ہیں۔

10: غیر ضروری توقعات سے گریز

حالات و واقعات،ماحول ،مستقبل سے کبھی غیر ضروری توقعات اور امیدیں وابستہ نہ کریں۔کیرئیر کے انتخاب میں خود انحصاری ایک انتہائی اہم خوبی ہے کیونکہ بیساکھی کبھی آنکھوں کا متبادل نہیں بن سکتی۔اپنے حالات،اپنی پوزیشن اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کریں اور ان کے مطابق فیصلہ کریں۔تو یقیناآپ ایک درست فیصلہ کر سکیں گے۔

11: وسائل کی دستیابی

اپنے وسائل کا صیح ادراک کریں اور ان وسائل کی حدود میں رہتے ہوئے کیرئیر کے انتخاب کا فیصلہ کریں۔صرف زندگی کی خواہشوں کو نہیں بلکہ حا لات کے تقاضوں کو بھی مدِنظر رکھیں۔وسائل کی عدم دستیابی کیرئیر کے انتخاب کو بری طرح متاثر کر تی ہے۔لہٰذا اس پہلو سے غفلت نہ برتیں۔

12: آسان راستے کو ترجیح دیں

کیرئیر پلاننگ میں آسان راستے کو ترجیح دیں ۔ایک راستہ آپ کی خواہشیں طے کرتیں ہیں جبکہ دوسرا راستہ وہ ہوتا ہے جو آپ کے وسائل اور ماحول باآسانی فراہم کر دیتے ہیں۔مشکل راستے کی رکاوٹیں ہٹانے میں اپنی توانائیوں کو ضائع کرنے سے شاید یہ زیادہ بہتر ہے کہ ان صلاحیتوں اور توانائیوں کو آسان رستے میں لگا کر زیادہ فائدے اور ترقی کی کوشش کی جائے۔

13: ذہنی اطمینان

اپنی دلچسپیوں اور رجحانات کے برعکس پیشے کا انتخاب اکثر اوقات ذہنی طور پر بے اطمینانی کا سبب بن جاتا ہے۔مثلاً اگر آپ کے اندر لیڈر شپ کی صلاحتیں موجود ہیں تو دوسروں کے ماتحت کام کرنا آپ کے لئے کبھی اطمینان کا باعث نہیں ہوگا۔اپنی فطرت اور عادات و اطوار کے مطابق پیشے کا انتخاب آپ کو کام کے دوران ذہنی طور پر خوشی اور سکون مہیا کرتا ہے اور آپ زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔لہٰذا کیریئر کا انتخاب کرتے وقت اس عنصر کو ضرور اہمیت دیں۔

14: ذاتی تجزیہ Self Judgement

کیرئیر کے انتخاب سے پہلے اپنی ذات کا تجزیہ ضرور کریں۔مگر یہ تجزیہ لازمی طور پر دیانتداری اور حقیقت پر مبنی ہونا چاہیے۔خود سے بات کریں اور خود کی بات سنیں۔آپ کیا کر سکتے ہیں؟آپ کیا بن سکتے ہیں؟آپ کتنے ذہین ہیں؟کتنے محنتی ہیں؟آپ کی ذہنی و جسمانی صحت کا معیار کیا ہے؟آپ میں کونسی صلاحتیں موجود ہیں؟کیا خوبیاں ہیں ،کیا خامیاں ہیں۔یہ وہ سوال ہیں جن کا بہترین اور انتہائی صیح جواب آپ کو صرف آپ کی اپنی ذات سے ہی مل سکتا ہے۔اور یہی جواب ایک بہترین کیرئیر کے انتخاب میں آپ کی مدد کر سکتا ہے۔

15: معاشرتی ڈیمانڈ

ایک بہترین افرادی قوت مضبوط معا شرتی بنیادوں کی تعمیر کرتی ہے۔لہٰذا معاشرتی ڈیمانڈ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پیشے کا انتخاب ہر لحاظ سے ایک بہترین فیصلہ ہو سکتا ہے۔کیرئیر کے انتخاب سے پہلے یہ تجزیہ ضرور کریں کہ آپ کا ماحول اور معاشرہ آپ سے کیا چاہتا ہے۔مثلاً اگر آپ کے ارد گرد IT کے ماہرین کی قلت ہے تو تو اس فیلڈ کا انتخاب بہترین ہو سکتا ہے۔مگر اس صورتحال میں بھی اپنے رجحان اور صلاحیتوں کے برعکس فیصلہ نہ کریں۔

quotations-on-Friendship-By-Arnald-H-Glasgow-qalmad-Quotes

16: دور اندیشی

مستقبل کا فیصلہ کوئی غیر سنجیدہ معاملہ نہیں بلکہ بہت غورو فکر اور سوچ بچار کا تقاضا کرتا ہے۔ آنیوالا وقت کیسا ہو سکتا ہے؟وقت کے تقاضے کیا ہونگے؟اور کیا کیا تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں ان سب باتوں کا تجزیہ ایک ذمہ دارانہ فیصلے کی بنیاد بن سکتا ہے۔لہٰذا موجودہ حالات اور مستقبل کی توقعات و خدشات کا گہرائی سے تجزیہ ایک کامیاب مستقبل کے انتخاب میں بہت مددگار ہے۔

17: اپنی ذمہ داریوں کو احساس

کیرئیر کا انتخاب کرتے وقت اپنی معاشرتی اور خاندانی ذمہ داریوں کو نظر انداز نہ کریں کیونکہ آنیوالے وقت میں یہ غفلت الجھن کی صورت میں سامنے آکر رستے کی رکاوٹ بن سکتی ہے جبکہ ان ذمہ داریوں کا احساس بھی اکثر اوقات ایک درست کیرئیر کے انتخاب اور اچھے مستقبل کی طرف رہنمائی کر سکتا ہے۔

18: خاندانی توقعات

خوش قسمتی کی بات ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی خاندانی نظام بہت مضبوط کڑیوں سے جڑا ہے۔اور یہ کڑیاں زیادہ تر ایک دوسرے ہر انحصار کرتی ہیں۔والدین کو بچوں سے بہت سی توقعات وابستہ ہوتی ہیں۔لہٰذا کیرئیر کا انتخاب کرتے وقت ان خواہشات اور توقعات کوذہن میں رکھنا بھی انتہائی اہم ہے۔اور اس سلسے میں بہت سی الجھنوں کا سدِباب بھی۔تاہم یہاں بھی اپنی ذہنی صلاحیتوں کو نظر انداز نہ کریں۔

19: آپ زندگی سے کیا چاہتے ہیں

آپ خود کو کس مقام پر دیکھنا چاہتے ہیں؟ زندگی سے کیا پانا چاہتے ہیں؟اور کس معیار کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں؟کیرئیر کے انتخاب میں یہ سوال بہت اہمیت رکھتے ہیں۔یہی مقصد کا تعین کرتے ہیں۔ٖمگر یہ بہت ضروری ہے کہ ان سوالات کا جواب حقیقی سوچ پر مبنی ہونہ کہ محض خواب و خیال پر۔

20: عملی حکمتِ عملی

اپنے فیصلے کو سوچ و بچار کے دائرے میں محدود نہ رکھیں بلکہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے ایک قابلِ عمل پالیسی اور راستہ وضع کریں۔اس سلسلے میں عملی اقدامات کیا ہو سکتے ہیں؟اور اپنے مقصد تک پہنچنے کے لئے کیا لائحہ عمل ہو سکتا ہے؟ اس حکمتِ عملی کی ترتیب کے دوران کئی اہم نقاط آپ کے سامنے آئیں گے جن کا تجزیہ مزید بہترفیصلے میں مدد کر سکتا ہے۔

21: سیدھا راستہ (To the point)

خود کو فضولیات میں نہ الجھائیں اور نہ نت نئے تجربات میں وقت ضائع کریں۔اپنے مقصد سے جڑے رہنا مقصد کے حصول کے لئے انتہائی ضروری ہے۔اکثر اوقات ایک بالکل درست فیصلہ کر لینے کے بعد کسی وجہ سے اپنے مقررہ راستے سے ہٹ جاناکیرئیرکے انتخاب کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ صرف سیدھا راستہ ہی منزل پر پہنچنے کا شارٹ کٹ ہو سکتا ہے۔

22: محنت ولگن

خواب اور خواہشیں منزل کا تعین تو کر سکتی ہیں لیکن منزل کو قریب نہیں کرسکتیں۔یہ صرف اور صرف اپنے مقصد کے ساتھ آپ کی اٹیچمنٹ اور اس کے حصول کے لئے کی جانیوالی محنت و کوشش ہی ہے جو آپ کو منزل تک لے جا سکتی ہے۔اگر آپ کیرئیر سے متعلق ایک بہتر فیصلہ کر چکے ہیں تواب محنت ولگن کا فقدان ہی ہو سکتا ہے جو آپ کو منزل سے دور کر سکے دوسری کوئی وجہ نہیں۔

23: بدلتے رجحانات کا تجزیہ

اکثر اوقات ایک روایتی سوچ کیریئر کے انتخاب کو بہت متاثر کرتی ہے۔تیزی سے بدلتی دنیا سوچ کے نئے زاویوں کا تقاضا کرتی ہے۔کیرئیر کا انتخاب کرتے وقت جدید ٹیکنالوجی،رجحانات اور جاب مارکیٹ کا بغور جائزہ ضرور لیں۔کیونکہ یہ ایک بہتر فیصلہ کرنے میں نہایت اہم ہے اور ہو سکتا ہے لاعلمی کی بنا پر ایک بہترین انتخاب گنوا بیٹھیں۔

24: اپنے ٹیلنٹ کا ادراک

اگر آپ کے اندر قدرتی طور پر کوئی ایسا ٹیلنٹ یا صلاحیت موجود ہے جو ارد گرد کے لوگوں میں موجود نہیں ہے تو قدرت کا یہ تحفہ کیرےئر کیلئے ایک بہترین انتخاب ثابت ہو سکتا ہے۔مثلاً اگر آپ ایک سائنٹیفک ذہن رکھتے ہیں اور آپ کے اندر معاشرے کی خدمت کا جذبہ بھی موجود ہے تو آپ بے شک ایک بہترین ڈاکٹر بن سکتے ہیں۔اگر میتھیمیٹکس آپ کا پسندیدہ مضمون ہے اور آپ ایک لوجیکل مائینڈ بھی رکھتے ہیں تو پھر آپ کو یقیناً انجینئیرنگ کی کسی فیلڈ کا انتخاب کرنا چاہیے۔اور اگر آپ ایک آرٹسٹک ذہن رکھتے ہیں تو آپ کے لئے فائن آرٹ کے کسی شعبے کا انتخاب ہی بہتر رہے گا۔

25: ورک ایبیلیٹیے (Work ability)

ٓآپ سوشل ریلیشنز کو ترجیح دیتے ہیں یا تنہائی پسند طبیعت کے مالک ہیں؟لیڈر شپ کی صلاحیت رکھتے ہیں یا کسی کی رہنمائی میں کا م کرنا آپ کو زیادہ آسان لگتا ہے؟ کیا یکسانیت آپ کو بور کر دیتی ہے؟۔ یہ وہ چند اہم سوالات ہیں جن کا جواب آپ کی کام کرنے کی بہتر صلاحیت کا تعین کر سکتا ہے۔کہ آپ کس قسم کے ماحول میں زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔کیرئیر کا انتخاب کرتے وقت ان عوامل کا ادراک نہایت ضروری ہے۔

26: مختلف شعبوں کی معلومات

اپنی فیلڈ سے ناخوش لوگوں سے اگر پوچھا جائے کہ آپ نے اس شعبے کا انتخاب کیوں کیا تو زیادہ تر لوگ یہی کہتے ہیں کہ ہمیں کسی اور فیلڈ کی بہتر معلومات نہیں تھیںیا اس فیلڈ کی خامیوں کا پتہ نہیں تھا۔جدید دور نے جہاں کئی نئے شعبے متعارف کرائے ہیں وہیں کئی قدیم اور روایتی پیشوں کا بھی خاتمہ کر دیا ہے۔لہٰذا کیرئیر پلاننگ کرتے وقت نہ صرف پرانے بلکہ جدید شعبوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا نہایت ضروری ہے کہ یہ آپ کی پوری زندگی کا مسئلہ ہے۔

27: موجودہ آپشنز کا تجزیہ

کیرئیر کا انتخاب کرتے وقت آپ کے پاس کچھ آسان اور فوری آپشنز بھی موجود ہوتی ہیں۔ان موجودہ آپشنز پر غور کرنا بہت سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔یہ کیرئیر کا بہترین انتخاب ہو سکتی ہیں۔ان میں سے کوئی آپشن اگر آپ کو بہتر لگتی ہے اور آپ کا دل و ذہن اس پر مطمئن بھی ہے تو نئے تجربات میں وقت ،پیسہ اور صلاحیتیں ضائع نہ کریں۔ٖ

28: جدید ذرائع سے مدد حاصل کریں

دوسرے شعبوں کی معلومات کے لئے جدید ذرائع کو وسیلہ بنائیں۔آجکل انٹرنیٹ پر کیرئیر کاؤنسلنگ کی بہترین رہنمائی کا فریضہ انجام دیا جا رہا ہے۔اگر آپ کے پاس دنیا کے بہترین شعبوں کے بارے میں رہنمائی کا فقدان ہے توانٹرنیٹ ایک اچھا وسیلہ ہے۔آپ نہ صرف آن لائن اس موضوع کو ریڈ کر سکتے ہیں بلکہ کیرئیر کاؤنسلنگ کے ماہرین سے مشورے کے لئے رابطہ بھی کر سکتے ہیں۔لہٰذا اس پہلو کو نظر انداز نہ کریں۔

29: بلا سوچے کسی کے مشورے پر عمل نہ کریں

زندگی تختہ مشق نہیں ہے اور نہ مفروضوں اور نتائج کو پرکھنے کی تجربہ گاہ ۔کیرئیر کا انتخاب خود اعتمادی،قوتِ فیصلہ ،سنجیدگی اور ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔آنکھیں بند کر کے دوسروں کی پیروی نہ کریں۔اور نہ بلا سوچے کسی کے مشورے پر عمل کریں۔ کیوں کہ اپنے حالات و واقعات اور اپنی صلاحیتوں کا جتنا ادراک خود آپ کو ہو سکتا ہے کسی دوسرے کو نہیں۔ ہاں مگر مشورہ کرنا بہت اہم ہے۔

30: جلدی میں فیصلہ نہ کریں

تمام حقائق اور آپشنز کو مدِنظر رکھ کر دور اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے فیصلہ کریں اگر آپ جاب مارکیٹ سے واقف ہیں تو آپ کو یقیناً ایک درست فیصلہ لینے میں زیادہ دقت پیش نہیں آئے گی۔مگر پھر بھی جلد بازی میں فیصلہ نہ کریں اور معلومات حاصل کرنے کے بعداچھی طرح سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔

quotations-on-courage-By-coleman-young-qalmad-Quotes

31: کتابوں کو مطالعہ

کیرئیر کاؤنسلنگ کے متعلق بہت سی کتابیں بھی مارکیٹ میں دستیاب ہوتی ہیں۔ان کا مطالعہ ضرور کریں۔آپ کے پاس جتنی زیادہ معلومات ہونگی اتنا ہی بہتر فیصلہ کر سکیں گے۔بے شک ان کتابوں کا مطالعہ مناسب وقت اور ریسرچ کا تقاضا کرتا ہے لیکن اس ذریعے سے حاصل ہونیوالی معلومات آپ کو اس سلسلے میں بہت سی دقتوں سے بچا سکتی ہیں۔

32: لوگوں سے انٹرویو

جن شعبوں میں آپ دلچسپی لے رہے ہیں ان شعبوں سے وابستہ عام لوگوں یا ماہرین سے مشورہ ضرورکریں۔اس طرح آپ نہ صرف متعلقہ فیلڈ جوائن کرنے کے لئے ایک بہتر حکمتِ عملی ترتیب دے سکیں گے بلکہ اس شعبے کے فائدے اور نقصانات کا بھی درست اندازہ لگا سکیں گے۔کیرئیر کے انتخاب میں یہ ایک انتہائی اہم امر ہے اسے ہرگز نظرانداز نہ ہونے دیں۔

33: سوچ بچار میں وقت ضائع نہ کریں

کیریئرکے انتخاب میں بروقت فیصلہ انتہائی اہم فیکٹر ہے۔اگر آپ ایک بہتر آپشن اور فیصلے پر پہنچ چکے ہیں تو بہتر سے بہتر آپشن کی تلاش میں وقت ضائع نہ کریں۔تعلیمی معاملات میں عملی اقدامات سوچ بچار سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔

34: مستقل مزاجی

غیر مستقل مزاجی،بہتر سے بہتر کی تلاش اور بار بار ذہن تبدیل کرناکیرئیر کے انتخاب میں انتہائی نقصان دہ امر ہے جو ذہنی الجھاؤ کا سبب بنتا ہے۔ مقصد کا تعین کر لینے کے بعد اپنی سوچ مکمل طور پر مقصد کے حصول پر مرکوز کر دینا بعض اوقات کامیابی کاشارٹ کٹ ثابت ہوتا ہے۔

35: آنکھیں بند کر کے دوسروں کی پیروی نہ کریں

ہر انسان اپنی سوچ اور صلاحیتوں کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ایک ہی ماحول میں پرورش پانے والے بچے کبھی ایک جیسی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کے مالک نہیں ہوتے۔اگر ایک میں اچھا ڈاکٹر بننے صلاحیت ہے تو ہو سکتا ہے دوسرا اچھا آرٹسٹ بن سکتا ہو۔اس لئے بنا سوچے سمجھے دوسروں کی پیروی نہ کریں۔ایک عاقل و بالغ انسان اس بات کو سمجھتا ہے کہ وہ ہر لحاظ سے دوسروں سے مختلف انسان ہے اور اپنے کیرئیر کا بہترین فیصلہ وہ خود ہی کر سکتا ہے نہ کہ اندھی تقلید۔

36: ورک سٹائل

کیرئیر کا انتخاب کرنے سے پہلے اپنے مزاج اور کام کرنے کے طریقہ کار کو جاننا انتہائی اہم ہے۔آپ پرسکون ماحول میں کام کرنا پسند کرتے ہیں یا کسی بھی پریشر اور کام کے دباؤ میں بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں ۔ Self Motivated پرسن ہیں یا دی گئی ہدایات کے مطابق بہتر کا م کر سکتے ہیں ۔ان حقائق کی درست سمجھ بوجھ ایک معقول فیصلے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

37: انٹرن شپ

آجکل بہت سی کمپنیاں سٹوڈنٹس کے لئے انٹرن شپ آفر کرتی ہیں۔کیرئیر کے حتمی فیصلے سے پہلے ایک یا زیادہ کمپنیز کے ساتھ انٹرن شپ ایک درست انتخاب میں مدد کرتی ہے۔یہ آپ کونہ صرف متعلقہ فیلڈ کے بارے میں بہتر معلومات فراہم کرتی ہے بلکہ مثبت اور منفی پہلوؤں کے بارے میں بھی آگاہ کرتی ہے۔لہٰذا اپنے انتخاب کو فائنل کرنے سے پہلے اگر انٹرن شپ کی آپشن موجود ہے تو یہ تجربہ ضرور کریں۔

38: تعلیمی پس منظر کو مدِ نظر رکھیں

فیلڈکا انتخاب اپنے تعلیمی پس منظر کے مطابق کریں۔مثلاً اگر آپ نے بزنس کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے تو اسی شعبے میں کوئی جاب یا بزنس میں ہی آپ بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔ ہمارے اکثر ادارے اور کمپنیاں ملازمین کاتقرر ان حقائق کی بنیاد پر نہیں کرتیں بلکہ کسی نہ کسی طرح کام چلانا ہی ان کی ترجیح ہوتی ہے۔یہ ناپائیدار سوچ بعد میں کمپنی اورملازم دونوں کے لئے اکثر پریشانی کا باعث بن جاتی ہے۔ تعلیمی پس منظر کے برعکس کوئی جاب اگر باآسانی مل بھی جائے تو اس میں ترقی کے چانسز بہت زیادہ نہیں ہوتے اور اپنی تعلیمی قابلیت کے ضیاع کا احساس بھی موجود رہتا ہے۔لہٰذا اپنی تعلیمی قابلیت کے مطابق ہی شعبے کا انتخاب بہتر ہے۔

39: صحت اور فٹنس کو مدِ نظر رکھیں

زیادہ تر شعبوں میں صرف تعلیمی قابلیت ہی نہیں بلکہ فٹنس بھی ایک لازمی عنصر ہوتا ہے ۔مثلاًاگر کوئی بچہ اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں کا مالک ہے مگر جسمانی صحت کے اعتبار سے کمزور ہے تووہ ایک اچھا ڈاکٹر تو بن سکتا ہے مگرآرمی جیسا کوئی شعبہ جوائن نہیں کر سکتاجہاں سلیکشن کا معیار صرف تعلیم اور ذہانت ہی نہیں اچھی صحت او مناسب قدو قامت بھی ہے ۔اپنے مستقبل کے تعین میں ان حقائق سے چشم پوشی بعض اوقات آنیوالی زندگی میں نفسیاتی اور ذہنی الجھنوں کا باعث بن جاتی ہے اسلئے حقیقت پسندانہ فیصلے کو ترجیح دیں۔

40: آپ کے اندر وہ کونسی خوبی یا صلاحیت ہے جو ارد گرد کے لوگوں میں موجود نہیں؟

یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ہر انسان میں کوئی نہ کوئی خوبی یا صلاحیت ایسی ضرور موجود ہوتی ہے جو اس کے ارد گرد رہنے والے انسانوں سے مختلف ہوتی ہے۔کیرئیر کا انتخاب کرتے وقت اس امر کا تجزیہ ضرور کریںآپ کے اندر وہ کونسی صلاحیت یا خوبی ہے جس پر لوگ اکثر آپ کی تعریف کرتے ہیں؟مثلاً اگر آپ کے اندر دوسروں کی مدد اور معاشرے کی فلاح و بہبود کا جذبہ موجود ہے تو آپ کے لئے معاشرتی فلاح و بہبود سے متعلق ہی کسی شعبے کا انتخاب بہتر ہے جس میں آپ ذہنی اطمینان بھی محسوس کریں گے۔

41: آنیوالے دس یا بیس سالوں میں آپ خود کو کس مقام پر دیکھتے ہیں؟

کیرئیر کے انتخاب میں یہ ایک انتہائی اہم سوال ہے جو مقصد کے تعین میں نہایت معاون ہو سکتا ہے۔یہ سوال نہ صرف مقصد کے تعین میں مددگار ہے بلکہ اس مقصد تک پہنچنے کی بہترین حکمتِ عملی کے تشکیل دینے میں بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔لہٰذ حتمی انتخاب سے پہلے اس سوال اور اس کے جواب کو ہرگز نظر انداز نہ کریں۔

42: خود سے سوال کریں

میں ہمیشہ سوچتا رہا ہوں کہ کوئی ایسا کام کیا جائے۔مگر کیوں؟
اگر میرے پاس اتنی صلاحیتیں اور وسائل ہوتے تو میں یہ ضرور کرتا۔کیا؟
لوگ اکثر مجھے کہتے ہیں کہ میں یہ کام بہت اچھا کرتا ہوں۔کیوں؟
اگر مجھے کسی دوست کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملتا تومیں اس کا انتخاب کرتا۔کیوں؟
اس قسم کے سوالات صلاحیتوں اور رجحانات کے ادراک اور کیرئیر کے انتخاب میں نہایت اہم نقاط ثابت ہو سکتے ہیں۔پیشے کے انتخاب میں ان سولات کو ضرور مدِ نظر رکھیں۔

43: مواقع Opportunities

بعض اوقات زندگی خود آپ کو کیرئیر کے انتخاب کا موقع فراہم کر دیتی ہے اور آپ کو کیرئیر کے انتخاب اور اس تک پہنچنے کے لئے ایک طویل راستے سے گزرنا ہی نہیں پڑتا۔اس اہم نقطے کو کسی موقع پر بھی غفلت کا شکار نہ ہونے دیں کہ بعض اوقات عقل و ذہانت اور پسند ناپسند کے تکلفات میں ناالجھنا ہی عقلمندی ہوتی ہے۔

44: لوگوں کی کونسی خصوصیات آپ کو متاثر کرتی ہیں؟

اگر آپ اپنی صلاحیتوں اور رجحانات کے درست ادراک سے قاصر ہیں توکچھ سوالات اس سلسلے میں آپ کی مدد کر سکتے ہیں۔مثلاً آپ کن لوگوں سے متاثر ہیں اور کیوں؟آپ اپنے ارد گرد کے لوگوں میں کونسی خوبیاں پسندکرتے ہیں؟اس قسم کے سوالات خود کو سمجھنے میں آپ کی مدد کر سکتے ہیں۔

45: بچپن میں آپ کے مشاغل کیا تھے؟

بچپن کی دلچسپیوں کو مدِ نظر رکھنا کیرئیر کے انتخاب میں نہایت اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔بچپن میں آپ کس قسم کے کھیل پسند کرتے تھے،آپ کے مشاغل کیا تھے،آپکی دلچسپیاں کیا تھیں۔یہ سوالات صلاحیتوں اور رجحانات کو سمجھنے میں بہت اہم ہیں۔اکثر کامیاب لوگوں سے اپنی فیلڈ کی کامیابی کے بارے میں سوال کیا جائے تو زیادہ تر افراد اس حوالے سے اپنے بچپن کا کوئی واقعہ بیان کرتے ہیں۔مثلاًایک کرکٹر بچپن ہی سے کرکٹ کا شوقین ہوتا ہے اور ایک سائنسدان بچپن ہی سے ٹیکنیکل ذہن کا مالک ہوتا ہے۔

quotations-on-life-By-Unknown2-qalmad-Quotes

46: آپ معاشرے میں کونسی تبدیلی لانا چاہتے ہیں؟

کیرئیر اور رجحانات کا درست تعین اس اہم سوال کے جواب سے بھی جڑا ہے۔آپ معاشرے میں جو بھی مثبت تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں اس کے حصول کے لئے کوشش کرنا ذہنی و قلبی اطمینان کا باعث ہوتا ہے۔مثلاً اگر آپ معاشرے میں علم کی روشنی پھلانا چاہتے ہیں تو ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو ترجیح دیں کیونکہ یہاں آپ زیادہ بہتر اور دیانتدارانہ کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں گے اور اس کارکردگی کی بنیاد پر ترقی کے چانسز بھی زیادہ ہونگے۔

47: کیا آپ ٹیم ورک کو پسند کرتے ہیں؟

اگر آپ ایک تنہائی پسند مزاج کے حامل ہیں تو ٹیم ورک میں ایڈجسٹ کرنا یقیناً آپ کے لئے دشوار ہوگا اور اگر آپ سوشل ریلیشنز بنانے میں خوشی محسوس کرتے ہیں توپبلک مینجمٹ سے متعلق کسی شعبے میں ہی آپ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔لہٰذا کیرئیر کے انتخاب مین اپنے مزاج کے اس پہلو کو ضرور مدِنظر رکھیں۔

48: کیا آپ کے اندر لیڈر شپ کی صلاحیتیں موجود ہیں؟

اگر آپ کے اندر لوگوں کو متحد کرنے اور ان کی صلاحیتوں کو مثبت ڈائریکشن میں لانے کی صلاحیت موجود ہے تو پھر آپ کے لئے سیاست یا مینجمنٹ یا ذاتی بزنس بہترین ہو سکتا ہے۔نا کہ کسی کمپنی یا ادارے میں کسی کے ماتحت کام کرنا۔کیرئیر کے انتخاب میں اس صلاحیت کا ادراک بھی درست فیصلے پر پہنچنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

49: بچپن میں آپ کو کس قسم کے کھلونے پسند تھے؟

کیرئیر کے انتخاب میں اس اہم عنصر کو مدِنظر رکھنا بے حد اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ایک بچہ جس قسم کے کھلونے پسند کرتا ہے یہ اس کے مزاج کی عکاسی کرتے ہیں۔آرٹسٹک مزاج کا حامل ایک بچہ زیادہ تر کلر پنسلز یا آرٹ کا سامان خریدنا پسند کرتا ہے جبکہ کھیلوں سے دلچسپی رکھنے والا ہمیشہ اسیقسم کے کھلونے پسند کرتا ہے۔سمجھدار والدین بچپن ابتداء ہی سے بچوں کی ان دلچسپیوں پر نظر رکھتے ہیں تاکہ ان کے لئے ایک بہتر مستقبل کے فیصلے میں کوئی غلطی سرزد ہونے کا امکان کم سے کم رہے۔

50: ایک اہم سوال اگر آپ کو کوئی کام نہ کرنا ہوتا تو آپ کیا کرتے؟

یہ ایک انتہائی اہم سوال ہے ۔اور کیرئیر اور رجحان کے صیح تعین کا نہایت آسان ذریعہ بھی۔یہ آپ کی دلچسپیوں،مشاغل،صلاحیتوں اور رجحان کا انتہائی درست اندازہ ہے۔اپنے مشغلے کوہی اپنی مصروفیت بنا لیناایک قابلِ تعریف فیصلہ ہے۔یہ فیصلہ کبھی کام کے دوران تھکاوٹ،اکتاہٹ اور بوریت کا احساس نہیں ہونے دیتااور آپ بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں جو ترقی کی ضمانت ہے۔
محترم قارئین!
کیرئیر کے انتخاب میں غیر سنجیدگی اور غفلت کا برتاؤ ہمارے بہت سے معاشرتی اور نفسیاتی مسائل کی ایک اہم وجہ ہے۔ ہم نے کچھ ایسے اقدامات اور طریقوں کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے جو اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔آرٹیکل کی بہتری کے لئے اپنی رائے دے کر اس چھوٹی سی معاشرتی خدمت میں اپنا حصہ ضرور ڈالیئے کہ چھوٹے چھوٹے قطرے مل کر ہی ایک سمندر کی تشکیل کرتے ہیں۔
شکریہ!

azu1

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.