انسان اور ڈولفن کی انوکھی داستان

زیادہ تر بچوں کی طرح مارگریٹ ہوئی لوویٹ(Margaret Howe Lovatt )بھی باتیں کرنے والے جانوروں کی کہانیاں سن سن کربڑی ہوئی ۔ اسے ابھی بھی یا د ہے جب اسے اس کی ماں نے مِس کیلی نام کی ایک کتاب دی تھی جس میں ایک بلی کا ذکر تھاجو بول بھی سکتی تھی اور انسانو ں کی زبان سمجھ بھی سکتی تھی ۔اس کہانی نے اسے مخمصے میں ڈال دیا کہ کیا واقعی ایسا ہو سکتاہے۔دوسرے بچوں کے برعکس لوویٹ ان کہانیوں کو اپنے بچپن کے ساتھ فراموش نہ کر پائی۔اور اوائلِ جوانی میں جب وہ جزائر غرب الہند کے سینٹ تھامس جزیرے پر مکین تھی ان کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔1963کے کرسمس کے دوران اس کے برادرِ نسبتی نے اسے ایک خفیہ لیبارٹری کے بارے میں بتایاجہاں وہ ڈولفن مچھلیوں پر تجربات میں مشغول تھے۔لوویٹ نے لیبارٹری کا دورہ کرے کا فیصلہ کیا۔وہاں اس کی ملاقات لیب کے سربراہ گریگوری بیٹسن (Gregory Bateson)سے ہوئی۔اس کے جذبے سے متاثر ہو کرگریگوری نے اسے جانوروں سے ملنے کی اجازت دے دی اور کہا کہ جو وہ دیکھے اسے قلمبند کرے ۔ کسی سائنسی تربیت سے نابلدہونے کے باوجود لوویٹ جانوروں کے رویّوں کی فطری ترجمان ثابت ہوئی اور بیٹسن نے اسے دوبارہ بھی آنے اجازت دے دی ۔وہاں تین ڈولفن تھیں پیٹر، پامیلا اور سسّی۔ ان میں سے پیٹر نوجوان تھا او ر سنِ بلوغت کوپہنچ رہا تھا۔یہ لیبارٹری ایک امریکی نیورو سائنسدان ڈاکٹر جون للی کے ذہن کی اختراع تھی جو ڈولفن کی انسانوں جیسی آوازیں نکالنے کی قابلیت کی بنا پر ایک دن ان سے گفتگو کرنے کی امید پر بنائی گئی تھی اور اس میں اسے ناسا (Nasa) اور دوسر ے حکومتی اداروں کی مالی معاونت بھی حاصل تھی۔اس لیبارٹری کا آغاز 1963میں کیا گیا تھا اور 1964میں لوویٹ کی آمد ہوئی۔ اپنی ہمدرد فطرت کی بدولت وہ جلد ہی تینوں ڈولفنوں سے مانوس ہو گئی اور جون للی کے بین
الانواعی گفتگو کے خواب کو گلے لگا کر اس کی تحقیق میں خود بھی جت گئی اور زیادہ سے زیادہ وقت ڈولفنوں کے ساتھ گزارتے ہوئے انہیں انگریزی زبان کی تربیت دینے لگی جبکہ لیب ڈائریکٹر گریگوری بیٹسن کاانہماک اس مخلوق کی باہمی پیغام رسانی میں تھا۔پہلے پہل وہ دن کے وقت ہی اپنا کام کرتی تھی لیکن پھر اس کے شب و روز پیٹر کے ساتھ بسر ہونے لگے ۔وہ ہفتے میں چھ دن تک دن رات پیٹر کے ساتھ گزارتی ۔اس وقت تک اسے اس کام سے جنون کی حد تک لگاؤ ہو چکا تھا۔اور وہ پیٹر کو ” ہیلو مارگریٹ”کہنا سکھانے میں کامیاب بھی ہو گئی لیکن پھر ایک چیز ان کے کام میں حائل ہونے لگی ۔جون للی مسکن آو ر دواؤں کے ذہن پر اثرات کا مطالعہ کر رہا تھا جس کے لیے اس نے امریکی حکومت سے اجازت نامہ لے رکھا تھا۔ رفتہ رفتہ وہ ان میں اس قدر منہمک ہو گیا کہ 1966کے وسط تک اس کی ڈولفنز میں دلچسپی نہ ہونے کے برابر رہ گئی کیونکہ اُس کام میں زیادہ سنسی تھی اور پھر سنسی جیت گئی اور اس نے ڈولفنز پر بھی مسکن آور ادویات کے تجربات شروع کر دیے۔پہلے ڈائریکٹر گریگوری بیٹسن گیا اور پھر ناسا (Nasa )کی مالی معاونت بھی ختم ہو گئی اور آخر کار عین اس وقت جب لوویٹ اور پیٹر کی چھ ماہ کی سنگت کے نتائج آنے شروع ہو گئے تھے لیبارٹری کو بند کردینے کا فیصلہ صادر ہو گیا ۔کیونکہ مالی معاونت کے بغیر ڈولفنز کا مستقبل ایک سوالیہ نشان تھا۔اور پھر انہیں میامی میں جون للی کی ایک دوسری لیبارٹری میں بھیج دیا گیا لیکن وہاں وہ سب سہولتیں اور آزادی میسر نہیں تھی ۔ میامی کی لیب کے چھوٹے چھوٹے ٹینکوں میں سورج کی روشنی کے بغیر پیٹر کی حالت بگڑنے لگی اور چند ہی ہفتوں بعد خبر آ گئی جون للی نے خود فون کر کے لوویٹ کو بتایا کہ پیٹر نے خود کشی کر لی تھی ۔انسانوں کے برعکس ڈولفنز میں نظامِ تنفس خودکار نہیں ہوتا۔ہر بار سانس لینے کے لیے انہیں ارادتاً ایک کوشش کرنی پڑتی ہے۔اگر زندگی کا بو جھ ناقابلِ برداشتہ ہو جائے تو ایک سانس لینے کے بعد ڈولفن تہہ میں بیٹھ جاتی ہیں اوراگلا سانس نہیں لیتیں۔اس طرح لوریٹ سے جدائی پیٹرکے لیے جان لیواثابت ہوئی۔لوریٹ کہتی ہے کہ اسے پیٹر کی موت کا افسوس نہیں ہے اسے ان حالات کا زیادہ افسوس تھا جن سے پیٹر کو میامی میں واسطہ پڑ رہا تھا۔
آنے والی دہائیوں میں جون للی ڈولفنز سے بات چیت کرنے کے نئے نئے طریقے کھوجتا رہا لیکن پھر کسی اور نے دوبارہ کبھی ڈولفنز کو انگلش سکھانے کی کوشش نہیں کی.

اپنا تبصرہ بھیجیں