گمنام ڈھانچہ جو ابھی تک ایک راز ہے

1940میں ملنے والا کسی گمنام ڈھانچہ ممکنہ طور پر (Earhart)کا ہو سکتا ہے یعنی وہ کئی مہینوں تک بحرالکاحل کے ایک جزیرے میں زندہ تھی۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق (Amelia Earhart’s ) امیلہ ایئرہارٹ کی زندگی کا ایک مکمل باب تاریخ کے صفحات سے غائب ہے۔مشہورِ زمانہ خاتون امریکی ہواباز جہاز کے حادثے میں نہیں بلکہ ایک گمنام مسافرکی موت مری۔ وہ بحرِ اوقیانوس کو پار کرنے والی پہلی خاتون تھی لیکن اس کا جہاز اس وقت بحرالکاحل میں گر کر تباہ ہو گیا جب وہ دنیا کے گرد چکر لگانے نکلی تھی۔آج تک یہی خیال کیا جاتا تھا کہ وہ بھی جہاز کے ساتھ ہی ہلاک ہو گئی اور اس کی باقیات گہرے پانیوں کی نظر ہو گئیں لیکن اب تاریخی ہوائی جہازوں کی بازیافت کے عالمی گروہ (the International Group for Historic Aircraft Recovery) نے ایک نیا خیال ظاہر کیاہے کہ 1940میں جزائرِ نِکومارورو (Nikumaroro) کے کریباتی(Kiribati) جزیرملنے والی ہڈیوں کو امریکی ہواباز کی ثابت کر سکے۔اور اگر یہ سچ ہوا تو پھر ایئر ہارٹ کی زندگی کا ایک مکمل باب لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہے ۔ڈھانچے کی دریافت سے پہلے تک امیلہ کے بارے میں یہی معلوم تھا کہ وہ 2جولائی 1937کو ہوائی جہاز کے حادثے میں جاں بحق ہو گئی لیکن ہو سکتا ہے کہ وہ کئی دنوں بلکہ شاید مہینوں تک حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی رہی۔ 1998 میں ڈھانچے کی باقیات کی ساخت اور بناوٹ کو ایئر ہارٹ کے قد کاٹھ کی خاتون سے مماثل قرار دے دیا
گیااور پھر ایک دوسری دریافت سامنے آئی۔ڈھانچے کی کہنیوں سے کلائیوں تک کی پیمائش کسی یورپی خاتون سے نمایاں طور پر زیادہ تھی اور ایئر ہارٹ کی بازوؤں کے سائز کے عین مطابق تھی۔ اگست میں 2 جولائی سے 6جولائی 1937تک سو سے زیادہ مدد کے لیے ریڈیو ٹرانسمیشنز موصول ہوئی تھیں اور اس بات کے دستاویزی ثبوت بھی موجود ہیں جس سے جہاز تباہ ہونے کے امکانات معدوم ہو جاتے ہیں کیونکہ ریڈیو چلنے کا مطلب ہے کہ جہاز کا انجن کام کر رہا تھا۔ اس دور کے اخبارات کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ اس کے زندہ ہونے کے بارے میں پر یقین تھے۔لیکن جب جہاز ان جزائر کی جانب روانہ کیے گئے جہاں سے مصیبت کے سگنلز موصول ہو رہے تھے او ر وہ کوئی جہاز تلاش نہ کر سکے تو تلاش کا رخ سمندر کی جانب مڑ گیا۔ لیکن جہاز نہ ملنے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس وقت تک جہاز مدوجزر کی لہروں کے ساتھ سمندر برد ہو گیاہو۔ ڈھانچہ دریافت ہونے والے جزیرے پر کی جانے والے تحقیق سے پتہ چلاکہ وہاں جگہ جگہ لکڑیوں کے الاؤ روشن کرنے کے آثار موجود تھے۔ جزیرے پر پینے کے قابل پانی نہ ہونے کی وجہ سے غالباً ایئر ہارٹ نے بارش اور درختوں کے پتوں سے ملنے والے پانی پر گزارہ کیا۔سو ان سب حقائق کی روشنی میں اس گروہ کو اب یہ یقینِ واثق ہے کہ وہ بچ گئی تھی لیکن تنِ تنہا انتہائی ناموافق حالات میں گھِر گئی تھی لہٰذا وہ کہتے ہیں کہ تاریخ میں تصحیح کی ضرورت ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں