پودوں نے سائنسدانوں کو الیکٹرانک جیکٹ کی تیاری کا طریقہ کار سِکھا دیا

بیرونی ملبوسات بنانے والے ادارے اور شروعاتی کمپنیاں عرصہ دراز سے بیٹری کی طاقت سے گرمی کوسردیوں کے ملبوسات کی تیاری میں استعمال کرنے کے تجربات کر رہی تھیں۔ایسی ہی ایک شروعاتی کمپنی اومیّس ٹیک(Omius Tech )کو یقین ہے کہ بیٹری کی طاقت کو انسانی درجہ حرارت متوازن رکھنے کے لیے زیادہ بہتر طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے چنانچہ کمپنی ایک ایسی جیکٹ کی تیاری میں مشغول ہے جو آرٹیفیشل انٹیلیجینس (artificial intelligence )اور روبوٹکس (robotics )کی مدد سیبدلتے موسم اورسرگرمیوں کی مناسبت سے آپ کے جسمانی درجہ حرارت کواعتدال میں رکھنے کے قابل ہو گی۔سیلیکان ویلی کی اس شروعاتی کمپنی نے یہ اچھوتا خیال پودوں کے سٹومیٹا (Stomata) مسام سے اخذ کیا ہے جو گیسوں کے اخراج اور درجہ حرارت کے اعتدال کو برقرار رکھنے کے لیے کھلتے اور بند ہوتے رہتے ہیں۔اومیّس کے پانی اور ہوا کے نفوظ سے محفوظ کپڑے میں اس کے اپنے مسام موجود ہیں جو عمودی قطاروں میں جیکٹ کی چھاتی اور پشت کے بالائی حصوں پر کافی نمایاں ہیں ان کو کھولنے اور بند کرنے کے لیے خودکار الیکٹرانک ٹمپریچر سنسرز (ElectronicTempratureSensors)موجود ہیں او رجیکٹ سے منسلکلیتھیئم پولیمربیٹری ایک چارجنگ میں پورا دن گزار سکتی ہے آپ ان مساموں کو ہاتھ سے بھی کھول اور بند کر سکتے ہیں اور آپ کی ترجیحات مستقبل کے لیے محفوظ ہو جاتی ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں