وہیل مچھلیوں کی پیغام رسانی کا انوکھا انداز

یونیورسٹی آف کوئین لینڈ(University of Queensland )کے ماہرِ سمندری حیاتیات ایل بھی ایس کیویناغ(Ailbhe S. Kavanagh )نے ایک تحقیق کے ذریعے اب باقاعدہ تصدیق کر دی ہے کہ وہیل مچھلیوں کا پانی کے اوپر چھپاکے لگانا دراصل ان کا آپس میں گفتگو کا ایک طریقہ ہے ۔ چونکہ پانی میں روشنی کی نسبت آواز کی لہریں باآسانی اور دور تک سفر کرتی ہیں لہٰذا بہت سی سمندری مخلوق پیغام رسانی کے لیے آواز پر انحصار کرتی ہے اور ان میں سے وہیل بھی ایک ہے۔تاہم ابھی تک ان کی پیغام رسانی کی مختلف حرکات مثلاً آواز جو سطح سمندر پر مختلف حرکات سے پیدا کی جاتی ہے جیسے کہ دم پانی پر مار کر ،فِن(Fin)پانی پر مار تے ہوئے یا کودتے ہوئے ان سب کا مفہوم پوری طرح محققین کی سمجھ میں نہی آیا۔وہیل اپنے جسمانی اعضاء کو پانی پر اسی طرح استعمال کرتی ہے جیسے موسیقار ڈرم پر ہتھوڑی سے آواز پیدا کر تے ہیں۔اور نتیجتاً ایک بلند آواز پیدا ہوتی ہے۔وہ عموماً ایسا تب کرتی ہیں جب پس منظر میں شور ہوکیونکہ ایسا سگنل زبانی سگنل سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔حیران کن بات یہ ہے کہ سطح پر آکر ایسے چھپاکے دار سگنل بھیجنے کے لیے بہت توانائی چاہیے ہوتی ہے اور یہ ہجرتکے دوران کیا جاتا ہے جب زیادہ تر مچھلیاں بھوکی ہوتی ہیں۔تو ظاہر ہے کہ یہ سگنل انتہائی اہمیت کے حامل ہو ں گے۔تحقیق کے دوران سامنے آیا ہے کہ وہیل پانی سے باہر پورا اس وقت کودتی ہے جب اسے دوسرے گروپ سے پیغام رسانی کرنی ہو جو کہ 4کلومیٹر کی دوی تک ہو سکتا ہے جبکہ فِن اور دم کے چھپاکے اپنے ہی گروپ کے ممبروں سے پیغام رسانی کے کا آتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں