ملک بغیر کرنسی کے چلتا رہا

1600ء میں برطانیہ کی بیشتر کرنسی چاندی کے سِکّوں پر مشتمل تھی اور سکوں پر لکھی ہوئی قیمت سکوں میں موجود دھات کی قیمت سے کم تھی جس کی وجہ سے لوگ سِکّوں کو پگھلالیتے یا ان کا کچھ حصہ کاٹ کر پگھلا لیتے اور فرانس میں بیچ ڈالتے جس سے برطانیہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہو گیا۔سِکّوں کے اتنے زیادہ ڈیزائن اور سائز تھے کہ صحیح اور کٹے ہوے سکے میں فرق دشوار تھا۔پکڑے جانے مجرموں کو سزائے موتدینے سے بھی مسئلہ جوں کا توں رہا تو 1696میں حکومتِ برطانیہ نے سر آئزک نیوٹن کی خدمات حاصل کیں جس نے مجرموں سے سختی سے نپٹنے کے ساتھ ساتھ پورے ملک کے تمام سِکّے منگوا کر پگھلوا دیے اور ایک نیابہتر اورمشکل سے نقل کیے جانے والاڈیزائن پورے ملک میں رائج کر دیا اس سارے عمل کے دوران پورے سال تک ملک بغیر کسی کرنسی کے چلتا رہا۔سِکّوں کے کناروں پر باریک جھریاں اسی کی ایجاد تھی تاکہ سِکّوں کو کاٹنے پر قابو پایا جا سکے.

اپنا تبصرہ بھیجیں