84 ملین سال پرانے برِ اعظم کی تلاش

اب اٹلانٹس کو چھوڑیئے موریشش کی تہہ میں ایک اور گمشدہ برِاعظم کا سراغ ملا ہیسائنسدانوں کو بحیرۂ ہند کے جزیرہ موریشش کہ تہہ میں غرق ایک قدیم براعظم کے بارے میں شواہد ملے ہیں۔ یہ برِاعظم جسے جیالوجسٹ موریشیا(Mauritia) کا نام دیتیہیں دورِ حاضر کے مڈغاسکراور ہندوستان پر مشتمل تھا جبکہ اس کا بقایا حصہ غالباً84ملین سال پہلے سمندرکی تہہ میں غرق ہو گیا تھا۔یہ برِاعظم ایک عظیم برِّ اعظم گوانڈہ کا حصہ تھا جس کے ٹوٹ جانے سے انٹارکٹکا، افریقہ آسٹریلیا اور جنوبی امریکہ وجود میں آئے۔
گوانڈہ 200 ملین بر س پہلے پایا جانے والا ایک بہت بڑا برِّاعظم تھا اور اس پر 3.6 بلین سال پرانی چٹانیں بھی موجود تھیں۔زمین دو حصوں پر مشتمل ہے برِّاعظم جن پر پائی جانے والی چٹانیں لاکھو ں سال پرانی ہو سکتی ہیں اور سمند رجو نسبتاً کم پرانے ہیں کہ وہاں ایسا پرانا کچھ نہیں ملتا
ساؤتھ افریقہ کی ویٹواٹرسرینڈ یونیورسٹی ( the University of the Witwatersrand in South Africa.)کے ماہر لیوس اشوال(Lewis Ashwal )کاکہنا ہے کہ وہ برِ اعظموں کے الگ ہونے کے عمل کا مطالعہ کررہے ہیں۔موریشیس زمین کا نسبتاً ایک کم عمر ٹکڑا ہے جو9 ملین سال پرا نا ہے جبکہ ماہرین کو جزیرے پر زرقون کے کچھ معدنی ذخائر ملے جو کئی بلین سال پرانے ہیں چنانچہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک جزیرہ ایسے معدنی ذخائر کا حامل کیسے ہو سکتا ہے جو اس سے بھی پرانے ہیں؟لہٰذا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ موریشیس کی تہہ میں موریشیس سے بھی قدیم کرسٹلز کسی قدیم برِّاعظم کی نشانی ہو سکتی ہے جب افریقہ اور انڈیا ایک دوسرے سے الگ ہونے لگے تو ان کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے درمیان میں رہ گئے جن میں سے ایک ٹکڑے پر آج سے تقریباً چھ سے سات ملین سال پہلے سے لاوہ تہہ در تہہ جمع ہوتا گیااور آج ہم اسے موریشیس کے نا م سے جانتے ہی

اپنا تبصرہ بھیجیں