صحت مند رہنے کے پچاس فائدے

sehat-mand-rahna-ka-50-fida

کیا آپ جانتے ہیں؟

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اینڈ نیشنل ہیلتھ کے ایک سروے کے مطابق

* پاکستان میں شوگر کے مریضوں کی تعداد 2020ء تک 13.9ملین تک پہنچ جائے گی۔

* پاکستان میں ہر سال 350,000 افراد فالج کا شکار ہو جاتے ہیں۔

* ہر نواں پاکستانی جگر کی کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا ہے۔

* 45سال سے زائد عمر کے33%افراد ذہنی دباؤ کے مرض میں مبتلا ہیں جبکہ 15سال اور اس سے زائد عمر کے افراد میں یہ شرح 19%ہے۔

* پاکستان میں ہر سال 100,000 افراد پھیپھڑوں کے کینسر کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔جس کی سب سے بڑی وجہ سگریٹ نوشی ہے۔دوسری طرف پاکستان دنیا کا سب سے زیادہ تمباکو استعمال کرنے والا ملک ہے۔

* پاکستان میں دل کی بیماریوں کی وجہ سے اموات کی شرح 200,000 افراد سالانہ ہے۔

* ٹی۔بی کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے۔

کائنات پر اگر غور کریں تو انسانی ذات گویا محور ٹھہرتی ہے اس لامتناہی نظام کا ۔کہ چاند اور سورج کی گردش اگر انسانی زندگی کے طول و ارض طے کرتی ہے توسمندر کا وسیع دامن اس کے لئے ذریعہ معاش بنتا ہے۔چوپائے اگر اس کے لئے مسخر ہیں تو آسمان کے ٹمٹماتے چراغ اس کی گزرگاہیں ہیں۔چاندنی کی ٹھنڈک اگر پرسکون نیند کا پیغام ہے تو سورج کی کرنیں کارِ جہاں میں شمولیت کی دعوت۔تپتے ہوئے صحراؤں میں اگر نغمہِ بلبل زندگی کی نویدہے تو ٹھنڈی ہوا کے جھونکے خوشیوں کا سندیس بھی۔گلاب کے چہرے پر قطرہ قطرہ برستی شبنم،شفق کے ماتھے پر بکھرے رنگ،جھیل کے شفاف آئینے پر تیرتے فطرت کے عکس ،غورو فکر کی عمیق وادیاں،حکمت کے موتی ،علم کے قیمتی ذخائر۔یہ سب کیا انسان ہی کی سوچوں کو پرواز نہیں دیتے؟

پتھر وں اور غاروں سے اپنا سفر شروع کرنیوالی یہ مخلوق آج چاندپر دنیا بسانے کا سوچتی ہے۔ہاں مگر بہت مشکل شاید ناممکن ہو جاتا یہ سفر ذہنی و جسمانی قوت و صلاحیت اگر اس کے موافق نہ ہوتی ۔کتنا انمول ہے قدرت کا یہ تحفہ اکثر مگر بے قدری کی ٹھوکروں میں پڑا ہوتا ہے۔کبھی بہت سستی ہوتی ہے دنیا کے بازار میں یہ جنس شاید بے مول بھی۔ایک ایک سانس کو ترستی زندگی مگر اس کی قیمت بھی خوب جانتی ہے۔

زیرِ نظر آرٹیکل آپ کی توجہ اور زندگی کے کچھ لمحات کا طالب ہے کہ وقت کا اگر کوئی نعم البدل نہیں ہے تو صحت کا کیا ہے؟؟

صحت کیا ہے؟

میڈیکل ڈکشنری کے مطابق

اپنے مخصوص ماحول میں اپنی صلاحیتوں اور قابلیتوں کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے بہترین جسمانی ،دماغی،روحانی اور معاشرتی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت صحت کہلاتی ہے۔یہ کسی شخص کی قابلیت کا معیار ہے جو کوئی کام سرانجام دینے یا کسی مقصد کی تکمیل کے لئے درکار ہوتی ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق

کسی بیماری یا کمزوری کی غیر موجودگی ہی مکمل صحت نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ایک بہترین ذہنی ،جسمانی اور معاشرتی حالت صحت کہلاتی ہے۔یہ انسانی جسم میں جاری وہ مسلسل عمل ہے جس میں انسانی جسم ماحول میں آئی تبدیلیوں اور نفسیاتی دباؤ وغیرہ جیسے عوامل کے دوران اپنی متوان حالتHomeostasisکو برقرار رکھتا ہے۔

جسمانی صحت Physical health

انسانی جسم کی وہ معیاری حالت اور کارکردگی جس کے لئے اسے ڈیزائن کیا گیا ہے جسمانی صحت کہلاتی ہے۔یعنی جسم کی وہ پرسکون حالت جو بیماری اور کمزوری سے پاک ہو صحت کہلاتی ہے۔

ذہنی صحت Mental health

ایک بہترین نفسیاتی،جذباتی اور معاشرتی حالت بہترین ذہنی صحت کی علامت ہے۔کسی انسان کے سوچنے، محسوس کرنے اور عمل کرنے کا دارومدار اس کی ذہنی صحت پر ہوتا ہے۔ماحولیاتی تبدیلیوں اور نفسیاتی عوامل کے خلاف ہمارا ردِعمل،سماجی تعلقات اور فیصلے ذہنی صحت کی عکاسی کرتے ہیں۔عمر کے ہر حصے میں ذہنی صحت نہایت اہم ہوتی ہے۔

حیاتیاتی تبدیلیاں،زندگی میں پیش آنیوالے حالات و واقعات اور موروثی عمل ذہنی صحت کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔

روحانی صحت Spiritual health

روحانی صحت کسی انسان کی ذات سے تعلق رکھتی ہے۔یہ درست عقائد،یقین،مذہبی لگاؤ اور پاکیزہ اخلاق و اقدار کی بنیاد ہے۔مختلف مذاہب اور معاشروں میں روحانی صحت کے معیار بھی مختلف ہیں۔تاہم ایک معتدل روحانی صحت متوازن انفرادی اور معاشرتی زندگی کی ضمانت ہے۔

بیماری 

کسی جاندار کی غیر معتدل Abnormalحالت ،سٹرکچر یا کسی نظام کی خرابی جو دوسرے تمام اعضاء کو بھی متاثر کرے بیماری کہلاتی ہے۔

بیماریوں کی جانچ پڑتال اور ان کی وجوہات واسباب کا مطالعہ Pathologyکہلاتا ہے۔

ہیومن ڈیفنس سسٹم Human defence system

مسلسل حملہ آور جراثیم اور مختلف اقسام کے وائرس سے بچاؤ کے لئے قدرت نے انسانی جسم کو ڈیفنس سسٹم کے تحفے سے نوازا ہے۔اس حفاظتی نظام کی کارکردگی میں مختلف عناصر حصہ لیتے ہیں۔مثلاً انسانی جلد :جراثیم سے بچاؤ کے لئے ایک بیرئیر کا کام کرتی ہے،بلڈکلوٹنگ:جلد پر کسی زخم کی صورت میں خون کے جمنے کا عمل جراثیم کو جسم میں داخلے سے روکتا ہے،پسینے کے غدود:یہ ایسے کیمیکلز پیدا کرتے ہیں جو بیکٹیریا کو ہلاک کرنے کا سبب بنتے ہیں،بلغمی جھلیاں:ان سے پیدا ہونیوالا مواد جراثیم کے جسم میں داخلے کو روکتا ہے،ناک کے بال:یہ ہوا میں موجود جراثیم کو سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہونے سے روکتے ہیں،ہائیڈروکلورک ایسڈ:انسانی معدے میں پایا

جانیوالا یہ تیزاب نقصان دہ خورد بینی جانداروں کا خاتمہ کرتا ہے،وائٹ بلڈ سیلز:یہ ہڈیوں کے گودے میں پیدا ہوتے ہیں اور خون کے ذریعے تمام جسم میں پہنچتے ہیں۔یہ جراثیم کے حملے کو ناکام بناتے ہیں اور ان کا خاتمہ کرتے ہیں۔

مدافعتی نظام Immune system

انسانی جسم خود کو حا لات کے مطابق ڈھالنے اور کسی بھی نئی صورتحال کا سامنا کرنے کی بہترین صلاحیت رکھتا ہے۔ قدرت نے اسے اپنے اندر رونما ہونیوالی کسی بھی تبدیلی کی صورت میں خود کو مستحکم کر کے اپنی معیاری صورت کو برقرار رکھنے کی قابلیت سے نوازا ہے۔ خلیوں کا پیداواری عمل، ہڈیوں کے گودے میں موجود سیلز، لِمفیٹک سسٹم،اور مختلف غدود مل کر جسم کا مدافعتی نظام تشکیل دیتے ہیں۔ کسی بھی بیماری،جراثیم یا وائرس کے حملے کی صورت میں یہ مدافعتی نظام خود بخود آن ہو کر اپنا کام شروع کر دیتاہے۔ کسی بھی دوا کا بنیادی مقصد ہمارے اندر موجود اس قدرتی نظام کی مدد کرنا ہوتا ہے جو تندرستی میں معاون ہے۔یاد رکھیں کوئی بھی دوا بیماری کو صحت میں نہیں بدل سکتی یہ صرف ہمارے اندر موجود اس مدافعتی نظام کومدد فراہم کرتی ہے جو کسی بیماری کے خلاف مزاحمت کرتا ہے۔بیماری کے حملہ آور ہونیکی صورت میں یہ آٹومیٹک سسٹم خود بخود آن ہو جاتا ہے۔آپ کی مثبت سوچ اس سسٹم کو قوت فراہم کرتی ہے جبکہ منفی سوچ اس کی کارکردگی تباہ کر کے رکھ دیتی ہے۔

انسانی قوتِ مدافعت کا تھری ڈی سکیچ three’D sketch of immune system

انسانی زندگی مادی ،روحانی اور نفسیاتی ڈائمنشنز پر استوار ہے۔تاہم ہر انسان میں ان تینوں ڈائمنشنز کے پیرا میٹرز دوسرے انسانوں سے مختلف ہوتے ہیں۔یہ مختلف پیرامیٹرز (اجزاء)ہی ہمارے اندر خوشی ، غم،محبت ،نفرت ،ہمدردی، بے رحمی جیسے جذبات و احساسات کی الگ الگ مقداروں کی تشکیل کرتے ہیں اور انسانی مزاجوں کے اختلاف کا سبب بنتے ہیں۔ مثلاًکچھ لوگ بڑے سے بڑے صدمے کو بھی حوصلے سے برداشت کرلیتے ہیں تو کچھ لوگوں کو خوشی بھی آپے سے باہر کر دیتی ہے۔

انسانی شخصیت و فطرت کا ایک معیاری اور قابلِ قبول اظہار ان تینوں ڈائمنشنز کے اعتدال کا تقاضا کرتا ہے۔انسانی وجود کی مادی ڈائمنشن گوشت پوست،ہڈیوں،رگوں اور خلیوں وغیرہ جیسے اجزاء سے تشکیل پاتی ہے۔نفسیاتی ڈائمنشن نفس کے تقاضوں ،فطری جبلتوں اور جذبوں کا مرکب ہے۔روحانی ڈائمنشن تفکر و تدبر،علم و عقل،حکمت و بصیرت،ہمدردی،محبت،نیکی،خوبصورتی کے احساس اور اعلیٰ مقاصد کے تعین جیسے اجزاء کو منعکس کرتی ہے۔کسی بھی ڈائمنشن کے اجزاء کی بے اعتدالی اس ڈائمنشن کو فطری اصولوں سے منحرف کرتی ہے۔دوسری دونوں ڈائمنشنز اس کا اثر قبول کرتی ہیں کیونکہ انسانی وجود کی ٹرِگنومیٹری کسی بھی ایک سائیڈ کے عدم وجود سے تشکیل نہیں پا سکتی اور یہ تینوں سائیڈز ایک دوسرے پر انحصار کرتی ہیں۔

غصے کی شدت بلڈ پریشر کیوں ہائی کر دیتی ہے؟خوشی آنکھوں سے جھلکتی کیوں نظر آتی ہے؟فکر اور پریشانیاں جسمانی صحت کو متاثر کیوں کرتی ہیں؟عبادت جسم و ذہن کو پُرسکون کیوں کر دیتی ہے؟کسی بھی مادی فعل کو انجام دینے کے لئے ارادے کی پختگی کیوں ضروری ہوتی ہے؟

مادی اور غیر مادی عناصر ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔فزکس کے مطابق مادے میں لاء آف اٹریکشن جاری ہے۔لیکن کیا آپ نے اسے دیکھا ہے؟یعنی مادی اشیاء کے بھی کچھ غیر مادی اثرات ہوتے ہیں انسانی عقل جنھیں مادیت کے دائرے میں قید رہ کر سمجھ نہیں سکتی۔

اسی طرح انسانی صحت مکمل طور پر مادیت کی ڈائمنشن پر انحصار نہیں کرتی۔اعتدال مگر انسانی فطرت ہے۔اور انسانی وجود کی یہ تینوں ڈائمنشنز اسی اعتدال کے حصول پر مائل رہتی ہیں۔اگر کسی ایک ڈائمنشن کے اجزاء کی بے اعتدالی دوسری دونوں ڈائمنشنز میں خلل کا سبب بنتی ہے تودوسری ڈائمنشنز کا اثر کسی ایک ڈائمنشن کے اجزاء کو اعتدال پر لانے میں اہم کردار بھی ادا کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ بیماری یا زخم وغیرہ لگنے کے بعد بہت جلد صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ بنا علاج کے بھی یہ قدرتی و فطری عمل جاری رہتا ہے۔ہاں مگر علاج معالجہ اس عمل کو تقویت ضرور دیتا ہے۔

انسانی فطرت کااعتدال صحت مندی کا ضامن ہے۔نفسیاتی و روحانی ڈائمنشنز کو اعتدال پر لا کر ایک اچھی جسمانی صحت حاصل کی جا سکتی ہے۔جو بلا شبہ انسان کا اختیاری عمل ہے۔

quotations-on-life-By-Ralph-Waldo-Emerson-aqalmad-Quotes

1: سانس اور انرجی Breath and energy

سانس لینے اور ایندھن کے جلنے کے عمل میں بہت مماثلت پائی جاتی ہے۔دونوں ہی آکسیجن استعمال کرتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ان دونوں عوامل کا بنیادی مقصد انرجی فراہم کرنا ہوتا ہے۔ سیلز غذائی اجزاء کی توڑ پھوڑ کے عمل سے انرجی پیدا کرتے ہیں جسے انسانی جسم و ذہن استعمال کرتا ہے۔سانس کے ذریعے فراہم کردہ آکسیجن اس عمل کو نارمل حالت میں جاری رکھتی ہے۔ ایک نارمل اور صحت مند نظامِ تنفس(سانس کا نظام)ان عوامل کو بخوبی سر انجام دیتا ہے جس کے لئے اسے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

2: فورس Force

انرجی(توانائی)کااستعمال فورس(طاقت) کہلاتا ہے۔توانائی کی موجودگی ایک الگ بات ہے اور اسے استعمال کرنے کی صلاحیت ایک دوسری بات۔ایک درست ذہنی و جسمانی نظام توانائی کے استعمال کی آئیڈیل مشین ہوتا ہے۔یہ اِن پٹ کے مطابق آؤٹ پٹ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

3: سٹیمینا Stamina

ایک صحت مند زندگی کے لئے توانائی اور اس کے استعمال کی صلاحیت کی موجودگی کے علاوہ یہ با ت بہت اہمیت رکھتی ہے کہ کوئی شخص اپنی توانائی کو کس حد تک استعمال کر سکتا ہے یا کتنے ٹائم پیریڈ تک استعمال کر سکتا ہے۔توانائی کا استعمال ذہنی اور جسمانی دونوں پہلوؤں پر مبنی ہو سکتا ہے۔کوئی شخص کسی مینٹل ایکٹیویٹی میں کتنی دیر تک ذہنی قوت و صلاحیت کو خرچ کر سکتا ہے اس کا مینٹل سٹیمینا کہلاتا ہے۔انسانی دماغ کو اپنے افعال سر انجام دینے کے لئے جسم میں موجودانرجی کا تقریبًا 20%حصہ درکار ہوتا ہے۔اگر جسم اپنی انرجی مطلوبہ ضرورت کے مطابق برقرار نہ رکھ سکے تو دماغی کارکردگی متاثر ہونے لگتی ہے۔مگر ایک صحت مند جسمانی نظام ان مسائل کا شکار نہیں ہوتا۔

4: آئی ۔کیولیول IQ level

مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کی صلاحیت،توجہ کا ارتکاز،اچھی یادداشت ،حساب و منطق اور تجزیاتی سوچ ایک بہتر IQ لیول Intelligence Quotient پر منحصر ہے۔اچھی ذہنی و جسمانی صلاحیت IQلیول کا درست معیار فراہم کرتی ہے۔جبکہ صحت کا ناقص معیار IQلیول کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔

5: پی ۔کیولیول PQ level

ماحول کے مطابق ڈھل جانے کی صلاحیت،کسی بھی صورتحال میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی قابلیت،قوتِ برداشت،جسمانی صلاحیتوں اور مہارتوں کا بہترین استعمال ایک معیاری PQلیول Physical Quotientکی ضمانت ہیں۔جو بلا شبہ اچھی صحت کے بغیر ممکن ہی نہیں۔

6: ای۔کیو لیول EQ level

جذبات واحساسات کا شعور اور ان کے اظہار کا درست انداز،معاشرتی رابطے کی درست صلاحیت،غلطیوں کا اعتراف،حوصلہ،عزت و احترام کے معیارات کا صیح ادراک و پیروی۔یہ تمام عوامل کسی شخص کے EQلیولEmotional Quotientکا اظہار کرتے ہیں۔جسمانی صحت جذباتی و نفسیاتی صحت کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔اچھی صحت کے مالک افراد کی جذباتی و نفسیاتی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت کمزور و ناتواں لوگوں کی نسبت زیادہ بہتر ہوتی ہے۔

7: سی ۔کیو لیول CQ level

نئے آئیڈیاز،وسیع سوچ،حسِ جمالیات ،قوتِ تخیل ،تصورات ،حسِ مزاح اورمسائل کو حل کرنے کے نئے طریقے وغیرہ۔CQلیول Creativity Quotientکے زمرے میں آتے ہیں۔صحت کے مسائل میں گھرا جسم وذہن محض صحت وزندگی کی جنگ لڑنے پر اکتفا کرتا ہے نہ کہ کچھ نیا تخلیق کرنے پر۔

8: اے۔کیو لیول AQ level

بیماری کے بعد صحت کی طرف لوٹنا،مشکلات ومسائل کی سمجھ بوجھ اور ان سے نکلنے کی صلاحیت،ذہنی دباؤ کا مقابلہ،کسی حادثے کی صورت میں قوتِ برداشت اور نا پسندیدہ حالات و ماحول کو برداشت کرتے ہوئے بہتر کار کردگی کا مظاہرہ کرنا ۔AQ لیولAdversity Quotientکے درست معیار پر منحصر ہے۔یہ عام مشاہدہ ہے کہ جسمانی و ذہنی طورپر صحت مند لوگ کسی بیماری کے حملے کو با آسانی برداشت کر لیتے ہیں اور کمزور افراد کی نسبت جلد صحت کی طرف لوٹتے ہیں۔

9: ایس ۔کیو لیول SQ level

ہمارے عقائد کی پختگی،ہماری انا ،اپنی ذات کی قدر واہمیت کا احساس اور اخلاق و کردار وغیرہ۔یہ ہماری روح سے جڑے عوامل ہیں جدید سائنس جن کے اندازے یا ناپ کو SQ لیول Spiritual Quotient کا نام دیتی ہے۔جسمانی و روحانی صحت میں گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔ایک صحت مند اور پرسکون زندگی گزارنے والے افراد بہت کم نفسیاتی و روحانی مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔

10: کارڈِ یو ویسکیولر سسٹم cardiovascular system

کارڈیوویسکیولرسسٹم دل اور جسم میں خون پہنچا نے والی رگوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ایک صحت مند انسان کا کارڈِیو سسٹم اپنے افعال کو درست طور پر انجام دیتا ہے۔یہاں صحت مندی سے مراد موٹاپا ہرگز نہیں کہ یہ دل کی بہت سی بیماریوں کی بنیادی وجہ ہے۔دل ایک پمپ کی طرح کام کرتے ہوئے پورے جسم میں خون کی روانی کو برقرار رکھتا ہے۔اس نظام کی خرابی جسم کے تمام افعال کو متاثر کرتی ہے۔

11: کارڈِیوویسکیولر سسٹم اینڈ انرجی cardiovascular system and energy

ایک صحتمند کارڈِیو سسٹم ایکسرسائز کے دوران ان اینزائمز کی پیداوار کو بڑھاتا ہے جو خوراک کے اجزاء کو انرجی میں تبدیل کرتے ہیں جسے سیلز استعمال کرتے ہیں۔ایکسرسائز کارڈِیو ویسکیولر سسٹم کو بہتر بناتی ہے ۔ آپ جتنی زیادہ ایکسرسائز کریں گے کارڈِیو سسٹم کی کارکردگی اتنی ہی بہتر ہو گی۔کھلاڑیوں اور اتھلیٹس کا کارڈِیو سسٹم عام افراد کی نسبت کہیں بہتر ہوتا ہے۔ اور ایک بہتر کارڈِک سسٹم جسمانی اعضاء اور مسلز کی بہترین کارکردگی کو یقینی بناتا ہے۔اور ہارٹ اٹیک اور دیگر قلبی امراض کے خطرے کو بہت حد تک کم کر دیتا ہے۔

12: کارڈِیو ویسکیولر سسٹم اینڈ ٹمپریچر cardiovascular system and temperature

ایک صحت مند جسم ماحول میں آئی تبدیلیوں کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔مثال کے طور پر انسانی جلد کے قریب موجود رگیں گرمی میں پھیلتی اور سردی میں سکڑتی ہیں اور اس عمل سے جسم کا ٹمپریچر کنٹرول کرتی ہیں۔کارڈِیو سسٹم خون کی شریانوں کے اس عمل کے ذریعے ٹمپریچر کو کنٹرول کرتا ہے۔نارمل کارڈِیو سسٹم انسان کو مختلف قسم کے درجہ حرات میں قوتِ برداشت اور بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔

13: مینٹل اینڈ فزیکل ہیلتھ Mental and physical health

ذہنی و جسمانی صحت ایک دوسرے پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔نفسیاتی مسائل جسمانی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں۔اسی طرح ایک صحت مند جسم نفسیاتی مسائل اور ذہنی دباؤ کو بہت حد تک برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔جسمانی و ذہنی صحت میں توازن ایک متوازن زندگی کی طرف اہم پیش رفت ہے۔

14: مینٹل ہیلتھ اور ڈیپریشن Mental health and depression

ایک صحتمند دماغ کسی بھی سبب سے پیدا ہونیوالے ذہنی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی بہترین صلاحیت رکھتا ہے۔کسی بھی مینٹل پریشر کی صورت میں انسانی دماغ فوری طور پر اس کے اثرات کو کم کرنے کے لئے مخصوص کیمیکلز پروڈیوس کرتا ہے۔ایک کمزور دماغ ان عوامل کو درست طور پر سرانجام دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

15: میینٹل ہیلتھ اور نیند Mental health and sleep

ایک پر سکون نیند صحت مند زندگی کی علامت ہے۔مگر اس کیلئے صحت مند جسم کے ساتھ ساتھ صحت مند دماغ بھی نہایت ضروری ہے۔نیند دماغی خلیوں کی مرمت کا کام سر انجام دیتی ہے اور جسم و ذہن کو تازہ دم کرتی ہے۔مگر ایک مکمل اور پر سکون نیند صحت مند جسم و ذہن کے بغیر ممکن نہیں ۔

quotations-on-life-By-Ralph-Waldo-Emerson4-aqalmad-Quotes

16: دِل ایک ڈبل پمپِنگ سسٹم Heart a double pumping system

دِل ایک ڈبل پمپِنگ سسٹم کا کام سر انجام دیتا ہے۔یہ خون کو پھیپھڑوں میں پہنچاتا ہے جہاں خون سے کاربن ڈائی آکسائیڈ علیحدہ ہوتی ہے۔اسی دوران یہ پھیپھڑوں سے آنیوالے آکسیجن سے بھرے ہوئے خون کوجسم کے خلیوں تک بھی پہنچاتا ہے۔اسطرح غذائی اجزاء خون کے ذریعے جسم ک ے ہر خلیے تک پہنچتے ہیں جو انھیں جلا کر انرجی پیدا کرتے ہیں۔ایک بالغ انسان کا دِل ایک دن ایک ہزار مرتبہ اس عمل کو دہراتا ہے۔اسطرح ایک صحت مند دِل زندگی اور توانائی کی روانی کو برقرار رکھنے کا بہترین آلہ ہے۔

17: ریسپائریٹری سسٹم (سانس کا نظام)Respiratory system

نظامِ تنفس کام انسانی جسم میں آکسیجن اور ہائیڈروجن کی آمدو رفت کو برقرار رکھنا ہے۔سانس کی نالیوں ، خون کی شریانوں اور پھیپھڑوں پر مشتمل یہ نظام روح و جسم کے رشتے کو برقرار رکھتا ہے۔اس نظام کا خلل براہِ راست ذہنی و جسمانی صحت کو متاثر کرتا ہے۔خاص طور پر دماغی کارکردگی نظامِ تنفس کی صحت سے براہِ راست متاثر ہوتی ہے۔

18: لِمفیٹک سسٹم Lymphatic system

انسانی جسم میں خون کے علاوہ دیگر سیال مادے بھی موجود ہوتے ہیں ۔بلغمی نظام انسانی مدافعتی نظام کو ایک نہایت اہم جزو ہے۔یہ جسم سے

بلغمی مادوں کے اخراج کے علاوہ فیٹی ایسڈز اور دیگر ضرورت سے زائد غذائی اجزاء کو بھی جذب کرکے انسانی جسم کو ان غیر ضروری اجزاے سے نجات دلاتا ہے۔یہ خون کے سفید خلیوں کی ٹرانسپورٹیشن کا کام بھی سر انجام دیتا ہے۔ایک صحت مند لِمفیٹک سسٹم ایک سٹرونگ قوتِ مدافعت کی ضمانت ہے۔

19: عصبی نظام Nervous system

مضبوط اعصاب جسم اور دماغ کے مابین ایک مظبو ط رشتے کی بنیاد ہیں ۔جسم و دماغ کا رشتہ جس قدر مضبوط ہوگا انسانی کارکردگی اتنی ہی بہتر ہو گی۔ایک مضبوط اعصاب کا مالک انسان خاندان و معاشرے میں بہتر کردار ادا کرنے کا اہل ہوتا ہے اور نہایت حوصلے سے کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

20: نظامِ انہظام Digestive system

میڈیکل سائنس کے مطابق مدافعتی نظام کی 70%کارکردگی نظامِ انہظام کی درست کارکردگی پر انحصار کرتی ہے۔ڈائجسٹِو سسٹم خوراک کے پیچیدہ مالیکیولز کو سادہ ترین مالیکیولز میں تبدیل کرتا ہے تاکہ غذا آسانی سے خون میں جذب ہو کر خلیوں تک پہنچ سکے اور انرجی میں تبدیل ہو سکے۔نظامِ انہظام کی صحت انسانی صحت و تندرستی کے لئے ناگزیر ہے۔

21: ایکسکرِیٹری سسٹم Excretory system

نظامِ اخراج انسانی جسم میں پانی اور دیگر نمکیات کی مقداروں میں توازن قائم رکھتا ہے۔جسمانی اجزاء کی مقداروں کا توازن ایک متوازن صحت اور زندگی کے لئے انتہائی اہم ہے۔اس نظام میں کسی بھی قسم کا تعطل انسانی جسم کے پورے نظام کو متاثر کرتا ہے جبکہ اس نظام کی صحت جسمانی نظام کی صحت کی ضمانت ہے۔

22: اینڈو کرائن سسٹم Endocrine system

دماغ کے علاوہ انسانی جسم کے مختلف اعضاء میں موجود غدود اینڈو کرائن سسٹم کی تشکیل کرتے ہیں۔یہ غدود مختلف اقسام کے ہارمونز اور کیمیکل پیدا کرتے ہیں جو خلیوں اور دوسرے اعضاء کی کارکردگی میں توازن پیدا کرتے ہیں۔اس کے علاوہ یہ جسم کی نشو نما ، تبدیلیوں اور میٹابولزم کو کنٹرول کرتے ہیں۔انسان کا لائف سٹائل ، ماحولیاتی عوامل اور سوچنے کے انداز ان گلینڈز کی کارکردگی پر مثبت یا منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔مناسب معیارِ زندگی اور مثبت رویے انسان کے اینڈوکرائن سسٹم پر اچھے اثرات مرتب کرتے ہیں جو اچھی صحت کی ضمانت ہیں۔

23: پٹھوں کا نظام Muscular system

یہ نظام انسانی زندگی کی بنیادہے۔جس کے بغیر زندگی کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔یہ صرف جسم کو حرکت کے قابل ہی نہیں بناتا بلکہ دِل کی دھڑکن ،نظامِ انہظام اور دورانِ خون کو بھی متحرِک رکھتا ہے۔جسمانی قوت و تناسب اسی نظام کی وجہ سے قائم رہتا ہے۔مضبوط اور طاقتور مسلز صحت مند زندگی کا مظہر ہوتے ہیں۔اور ایک توانا انسان ہی زندگی میں بہترین کردار ادا کر سکتا ہے۔

24: نظامِ استخوان Skeletal system

یہ جسم میں موجود تمام چھوٹی بڑی ہڈیوں اور جوڑوں پر مشتمل ہوتا ہے۔سٹیل سے زیادہ مضبوط ہڈیوں کا یہ نظام جسم کی تمام اندرونی اعضاء کی حفاظت کا ذمہ دار ہے۔پٹھے اسی نظام پر قائم رہتے ہیں۔ہڈیوں کا گودا Bone marrow مدافعتی نظام کا اہم جزو ہے۔زندگی کے کئی ذائقوں کی خوبصورتی ایک مضبوط و توانا استخوانی نظام سے جڑی ہے۔کیا اس کے بغیر کوئی اچھا اتھلیٹ بن سکتا ہے؟کیا جسم کی درست نشو نما اس مضبوطی کے بغیر ممکن ہے؟

25: صحت اور تخلیقی صلاحیت Healthy and creativity

ایک صحت مند دماغ ہی کسی بہترین تخلیقی کاوش کا متحمل ہو سکتا ہے۔تخلیقی عمل دماغی خلیوں کے باہمی فنگشن سے وقوع پذیر ہوتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ایک صحت مند جسم دماغ کے تخلیقی عمل میں بھر پور معاونت کرتا ہے۔صحت و بیماری کی کشمکش میں مبتلا جسم وذہن کبھی نئی سوچ اور نئے آئیڈیاز پیدا نہیں کر سکتا۔

26: ٹیم ورک Team work

اجتماعیت انسانی فطرت ہے اور ایک صحت مند انسان چونکہ فطری اصولوں کے زیادہ قریب ہوتا ہے ۔اس میں ٹیم ورک کا جذبہ ایک بیمار آدمی کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔اور وہ معاشی سرگرمیوں میں ایک بیمار آدمی کی نسبت زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔

27: پرفیکشن اِزم Perfectionism

انسانی شخصیت کی یہ نہایت اعلیٰ خصوصیت ہے۔اچھی جسمانی و ذہنی صحت کے بغیر مگر اس خصوصیت کی تکمیل ممکن نہیں۔ایک صحت مند انسان اپنے کاموں کی انجام دہی میں اپنی صلاحیتوں کو پوری طرح استعمال کر سکتا ہے۔اور صلاحیتوں کا یہ بھر پور استعمال اس کے کام کو پرفیکشن عطا کرتا ہے۔

28: سپورٹس مین سپِرٹ Sportsman spirit

ایمانداری ، دوسروں کی رائے کا احترام اور ہار یا جیت کی صورت میں اعلیٰ کردار کا مظاہرہ بے شک ایک صحت مند سوچ کی علامت ہیں۔بیمار ذہن ان قابلِ قدر خصوصیات کا اہل نہیں بن سکتا۔ایک صحت مند سوچ اور جسم و ذہن کا مالک انسان اپنی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد کر سکتا ہے اور ناکامی بھی اس کے لئے کامیابی کی پہلی منزل کی حیثیت رکھتی ہے۔

29: ہیلتھ اینڈ ہارڈورک Health and hard work

زندگی میں بہت کم چیزیں ہوتی ہیں جن کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔محنت انھی میں سے ایک ہے جو زندگی میں کامیابی کی ضمانت ہے۔ایک کمزور اور ناتواں فرد کیلئے مگر اسکا تصور مشکل ہے۔ایک صحت مند انسان اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے ذہانت و محنت کا استعمال بیمار و کمزور آدمی کی نسبت کہیں بہتر کر سکتا ہے۔

30: ہیلتھ اینڈ انجوائے منٹ Health and enjoyment

حقیقت میں زندگی کے تمام ذائقے اور رنگ انسانی صحت سے جڑے ہیں۔ایک صحت مند انسان زندگی اور ماحول کو زیادہ بہتر طور پر محسوس کر سکتا ہے۔اسکا دِل و ذہن خوشی اور مسرت سے بھرا ہوتا ہے۔اسکی مثبت سوچ اور حوصلہ زندگی میں پیش آنیوالی مشکلات کی شدت کم کر دیتے ہیں۔لہٰذا خوشگوار زندگی کے لئے اچھی صحت ناگزیر ضرورت ہے۔

quotations-on-life-By-Ralph-Waldo-Emerson15-aqalmad-Quotes

31: قوتِ فیصلہ Power of decision

ایک صحت مند انسان ہی بہترین قوتِ فیصلہ کا مالک ہو سکتا ہے۔ ایک غیر صحت مندانسان چونکہ اپنی صحت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوتاہے جو اسکی پوری شخصیت کو متاثرکرتی ہے۔لہٰذا وہ بروقت اور مثبت فیصلوں کا اہل نہیں ہو سکتا۔

32: سماجی تعلقات Social relations

بیمار و کمزور آدمی اپنی ذات تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔اسکی معاشی سرگرمیاں برائے نام رہ جاتی ہیں جبکہ ایک صحت مند انسان معاشرے میں ایک صحت مند کردار ادا کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ وہ رشتوں کو بہتر طریقے سے نبھاتا ہے ،تعلقات بناتا ہے اور معاشرے کا اہم فرد ثابت ہوتا ہے۔

33: صحت اور رویہ Health and attitude

صحت یا بیماری ہمارے رویے پر براہِ راست اثرانداز ہوتی ہے۔صحتمندی خوش مزاجی سے جڑی ہے اور بیماری چڑچڑے پن اور عدم برداشت کو جنم دیتی ہے۔صحت مند انسان کے دماغ میں خوشی پیدا کرنیوالے ہارمونز کی مقدار اپنا لیول برقرار رکھتی ہے۔بیماری جسم کے ہر حصے کو متاثر کرتی ہے جن میں دماغ سب سے اہم ہے۔

34: ذہنی صحت Mental health

جسمانی اور ذہنی صحت ایک دوسرے پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ہائی بلڈ پریشر غصے اور چڑچڑے پن کو جنم دیتاہے توڈیپریشن کئی جسمانی امراض کی وجہ بنتا ہے۔ذہنی صحت ہمارے دماغ میں پائے جانیوالے مختلف گلینڈز اور ہارمونز کی درست کاکردگی کے سبب ہوتی ہے۔ذہنی و جسمانی صحت مثبت سوچ اور رویوں کو جنم دیتی ہے تو دوسری طرف ہمارے مثبت رویے ذہنی و جسمانی صحت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

35: فوری ردِعمل کی صلاحیت Instant reaction

کسی بھی صورتحال یا ماحول میں آئی کسی بھی تبدیلی کا بروقت ادراک اور درست ردِعمل ایک صحت مند جسم و ذہن اور تندرست حواسِ خمسہ کی علامت ہے۔بیماری انسانی حواس پر اثرانداز ہوتی ہے ۔صحت مند انسان کسی بھی صورتحال پر فوری اور درست ردِعمل ظاہر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

36: صحت اور خوبصورتی Health and beauty

انسانی شخصیت کی ظاہری خوبصورتی بھی اچھی صحت سے جڑی ہے۔ ظاہری شخصیت اندرونی شخصیت ہی کا عکس ہوتی ہے۔تمام جسمانی و ذہنی نظاموں کی درستگی جسم و ذہن کی معیاری حالت کو برقرار رکھتی ہے۔اور یہی توازن شخصی خوبصورتی کو جنم دیتا ہے۔

37: پرابلم فیسنگ ایبیلٹی Problem facing ability

صحت مند انسان کے اندر مشکلات و مصائب کا سامنا کرنے اور ان کا حل نکالنے کا عزم وحوصلہ بیمار آدمی کی نسبت زیادہ ہوتاہے۔کسی بھی مسئلے کی صورت میں ہمارا دماغ صورتحال کے مطابق حکمتِ عملی ترتیب دیتا ہے اور جسم کے مختلف حصوں کی طرف احکامات ارسال کرتا ہے۔

بیمار اور کمزوری اس نظام میں خلل کا سبب بنتی ہے۔

38: صحت اور قوتِ مدافعت Health and Immune power

صحت مند لوگ نہ صرف یہ کہ دوسروں کی نسبت بہت کم بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں بلکہ کوئی بیماری وائرس یا زخم وغیرہ کی صورت میں بہت جلد خود کو رِیکور کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ان کا مدافعتی نظام زیادہ موثر ہوتا ہے۔جونہ صرف بیماری کا حملہ ناکام بناتا ہے بلکہ بیماری کو جلد صحت میں بدلتا ہے۔

39: یادداشت Memory

دماغ کی درست کارکردگی اچھی یادداشت کو ممکن بناتی ہے۔یاداشت کا عمل دماغی خلیوں کی بہتر کارکردگی سے منسلک ہے۔صحت مند دماغ بہترین یاداشت کو ممکن بناتا ہے۔مگر اسکے ساتھ جسمانی صحت بھی اچھی یادداشت کیلئے اہم ہے۔

40: اعتماد Confidence

انسانی شخصیت کی نہایت اعلیٰ خوبی ہے صحت کے بغیر جس کا حصول ممکن نہیں۔معیاری جسمانی صحت اور اعلیٰ دماغی کارکردگی سے منسلک یہ خوبی انفراد ی و اجتماعی زندگی کی اہم ضرورت ہے۔مگر کیا ایک بیمار و ناتواں انسان زندگی میں اس اعتماد کا مظاہرہ کر سکتا ہے جو ایک صحت مند اور توانا انسان؟

41: عملیت پسندی Practical nature

عملیت پسندی انسانی فطرت میں شامل ہے ۔ صحت مندی عملیت پسندی کو جنم دیتی ہے۔ تندرست انسان فطری اصولوں کے زیادہ قریب ہونے کی وجہ سے بہت کم سستی و کاہلی کا شکار ہوتا ہے۔دوسری طرف ست وکاہلی بیمار سوچ اور جسم و ذہن کی علامت ہے۔

42: پاور آف ریزننگ Power of reasoning

دلائل کی قوت انسانی ذہانت کی مظہر ہوتی ہے۔اور صرف جسمانی صحت ہی مکمل صحت کی علامت نہیں بلکہ جسمانی ، ذہنی اور روحانی صحت مل کر ہی ایک مکمل صحت مند زندگی کی تشکیل کرتی ہیں۔ایک صحت مند آدمی کا ذہن چونکہ درست طور پر اپنا کام سر انجام دینے کے لائق ہوتا ہے اس لئے ایک اچھی صحت اچھی پاور آف ریزننگ کا سبب بنتی ہے۔

43: آپٹِمزام یا پُر امیدی Optimism

صحت مند زندگی پُر امیدی کو جنم دیتی ہے۔صحت مند آدمی پر زندگی میں پیش آنیوالی مشکلات اور ناکامیوں کے سبب مایوسی کا اثر بہت کم ہوتا ہے۔پر امیدی یا ناکامی کی کیفیت دماغ میں وقوع پذیر ہونیوالی کچھ ہارمونل تبدیلیوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ایک صحت مند آدمی کو اپنی صلاحیتوں پر اعتماد ہوتا ہے اور اعتماد کی یہی طاقت دماغ میں پُر امیدی کی کیفیت پیدا کرتی ہے۔

44: جسم وروح کا تعلق Body and soul relation

جسم وروح کا مضبوط تعلق ایک صحت مند زندگی کی ضمانت ہے۔انسانی روح و نفسیات فطری اصولوں سے ہی قوت و پرورش پاتی ہے۔کوئی انسان فطرت کے جتنا قریب ہو گا روحانی و نفسیاتی طور پر اتنا ہی طاقتور ہوگا۔رو ح و ذہن کی یہی طاقت جسم پر بھی براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔

45: پُرسکون ذہن Peaceful mind

ذہنی و جسمانی طور پر صحتمند آدمی عام طور پر پُر سکون ذہن کامالک ہوتا ہے۔سکون کا تعلق انسانی دماغ میں پائے جانیوالے کچھ گلینڈز سے ہوتا ہے۔کسی بھی غیرمتوقع صورتحال میں ان گلینڈز کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ایک صحت مند دماغ اپنے اندر رونما ہونیوالی ان غیر معمولی تبدیلیوں کو معمول پر لانے کی بہترین صلاحیت رکھتا ہے۔

quotations-on-life-By-Paulo-Coehlo2-aqalmad-Quotes

46: سٹرونگ وِل پاور Strong will power

کتنی اہمیت ہوتی ہے حوصلے او مظبوط ارادے کی اسے پایا تکمیل تک پہنچانے کے لئے بھی مگر صحت ہی درکار ہے۔ایک بازی گر رسی پر کیسے چل سکتا ہے؟انسان تنہا ہزاروں میل بلندیوں تک کیسے پہنچ جا تا ہے؟بے شک یہ ارادے کی طاقت ہی ہے جو مادی قوتوں کو انسان کی مرضی کے تابع لے آتی ہے۔

47: پوزیٹو تھِنکِنگ Positive thinking

بلاشبہ بہت پُر اثر ہوتی ہے کسی انسان کی مثبت سوچ عمل کی طاقت شامل ہو جائے تو مزید موثر۔بیماری مگر کمزوری اور منفی سوچوں کو جنم دیتی ہے۔ذہنی و جسمانی طور پر ایک صحت مند آدمی ہی سیدھے راستہ پر چلنے کے لئے زیادہ باہمت ثابت ہو سکتا ہے۔

48: کنفیوژن Confusion

نفسیات کے مطابق کسی ناخوشگوار حالت کے نتیجے میں ہمارے ذہن میں پیدا ہونیوالی وہ کشمکش جوہائی بلڈپریشر،تیز دھڑکن،سانس لینے میں دشواری اوراسی طرح کی دیگر علامات کا سبب بنتی ہے گھبراہٹ یا کنفیوژن کہلاتی ہے۔ماحول کے خلاف اس نفسیاتی ردِعمل کا ہمارے اعصابی نظام سے گہرا تعلق ہے۔ایک تندرست اعصابی نظام کسی بھی صورت میں خود کو اعتدال پر رکھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

49: مَینرز Mannerism

اخلاق وعادات کی خوبصورتی انسانی صحت سے براہِ راست متاثر ہوتی ہے۔ایک صحت مند انسان ہی اس خوبصورتی کو برقرار رکھنے کامتحمل بن سکتا ہے۔صحت کے حصول کی کشمکش میں مبتلا کوئی جسم و ذہن زندگی کے صیح طور طریقوں پر توجہ دینے کا اہل نہیں بن سکتا۔

50: صحت اور حسِ جمالیات Health and aesthetic sense

بلا شبہ جزوِلازم ہے حسِ جمالیات ایک انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی میں۔خوبصورتی کے احساس اور اس کی قدردانی کے بغیر ایک نارمل زندگی کا تصور ہی ممکن نہیں۔شاعری،مصوری، ادب کی تخلیق کیا حسِ جمالیات ہی کی مرہونِ منت نہیں؟صحت وتندرستی کے بغیر کیا اس کا اظہار ممکن ہے؟

محترم قارئین!

زندگی کی نعمتوں کا موازنہ کیا جائے تو صحت سب سے قیمتی خزانہ قرار پاتی ہے۔سب سے سستا بھی اور انمول بھی۔اگر آپ کو یہ نعمت حاصل ہے تو اس کی قدر ضرور کریں کہ قدرت کواپنی نعمتوں کی بے قدری پسند نہیں۔صحت کی قدر کیجئے،اپنی قدر کیجئے۔آرٹیکل کی بہتری کے لئے ادارے کو آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

شکریہ!

azu1

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.