دس حیران کن ایجادات جو جنگ کا نقشہ تبدیل کر دیں گیں

 کیا آپ جانتے ہیں؟

* ایس ۔آئی ۔ پی ۔آر ۔آئی ( سٹوک ہوم اِنٹرنیشنل پِیس ریسرچ اِنسٹیٹیوٹ) کے مطابق اس وقت دنیا کے نو ایٹمی ممالک میں تقریباً 16,300ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔

 

* جاپان میں ہونیوالی ایک ریسرچ کے مطابق ہائیڈروجن بم دنیا کا مہلک ترین ہتھیار ہے جو پلک جھپکنے میں 370,000 انسانوں کو ہلاک اور 460,000 کو زخمی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یاد رہے کہ چنگیز خان کو( جسے دنیا کا سفاک ترین انسان مانا جاتا ہے )34لاکھ انسانوں کو ہلاک کرنے میں تقریباً52سال کا عرصہ لگ گیا تھا ۔

 

* ہائیڈروجن بم ہیروشیما پر گرائے جانیوالے بم ( جس میں تقریباً 140,000 افراد ہلاک ہوئے )سے 50گنا زیادہ تباہ کن ہتھیار ہے ۔

*امریکہ جنگی تیاریوں پر سب سے زیادہ روپیہ خرچ کرنیوالا ملک ہے جس کا سالانہ دفاعی بجٹ597ارب ڈالر ہے اور یہ دنیا کے 14ممالک کے دفاعی بجٹ کے برابر ہے

 

* دنیا کے مہنگے ترین فائیٹر طیارے B-2 Spirit پر 2.4 بلین ڈالر کی لاگت آئی ۔ امریکہ کے پاس ایسے 21طیارے موجود ہیں۔

 

* پاکستا ن کا سال2016 – 17کا دفاعی بجٹ 860 بلین روپے مختص کیا گیا۔

 

* 9/11 کے بعد سے اب تک دہشتگردی کے خلاف لڑی جانیوالی جنگوں سے اسلحہ ساز کمپنیوں کو تقریباً 2.8کھرب ڈالر کا منافع ہوا۔

 

* بائیولو جِسٹس کے ایک اندازے کے مطابق تیسری جنگِ عظیم کی وجہ تنازعہ پانی کی شدید قلت ہوگی اور ماہرین کی رائے میں یہ جنگ دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی کے خاتمے پر منتج ہوگی۔

 

اپنے وجود کی حفاظت اور اسے بچانے کی ہر ممکن کوشش ، بے شک یہی بنیادی پیمانہ ہے جاندار و بے جان کی فطرت میں فرق کا ۔ بے سبب مگر کسی سے جینے کا حق چھین لینا کیا انسانی فطرت سے انحراف نہیں؟ اور کیا اسی انحراف کے سبب خوف زدہ نہیں ہے ہمیشہ سے انسان ،انسان سے ؟ بناء تعاون کے مگر گزارا بھی نہیں۔اور فقط کسی صلاحیت کا حصول ہی انسانیت کی معراج ہوتی تو عاد اور ثمود عبرت کا نشان نہ ہوتے، قاہرہ کے میوزیم میں موجود فرعون کی لاش انسان کو اس کی اصل اوقات کا احساس نہ دلا رہی ہوتی اور سکندرِ اعظم یہ وصیت نہ کرتا کہ اسے دفن کرتے وقت دونوں ہاتھ تابوت سے باہر رکھے جائیں کہ لوگوں پر یہ حقیقت عیاں ہو جائے سامان خواہ سو برس کا ہی کیوں نہ ہو سفرِ آخرت کا مسافر بے سامان ہی ہوتا ہے۔
ستاروں سے آگے جہاں تلاشنے کی جستجولیکن اپنی ذات کی حقیقت سے بلکل ہی بے خبر ۔ اس کی حفاظت کے لئے مگر ہر دم ہر پل تیار۔عقلِ انسانی کیا اتنی ہی کوتاہ اندیش ہے کہ اپنی بھلائی و بہتری کے درست پیمانوں کا تعین ہی نہ کر سکے؟ اور زمین اگر سب کیلئے ہے تو جینے کا حق ہر کوئی صرف اپنے لئے ہی کیوں رکھنا چاہتا ہے؟ بڑھتا ہوا جنگی جنون اور زیادہ سے زیادہ تباہی کیا بس یہی ہے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہونے کی علامت؟ حقائق مگر ایک انتہائی بھیانک مستقبل کی تصویر پیش کرتے ہیں کہ جہاں بس ایک آخری معرکہ ہی باقی ہے خونریزی کی اس انتہا کا۔ اور شاید یہی ہے انسانیت کی تقدیر، یہی ہے نوشتہ دیوار اور لوح و قلم میں درج بھی۔
عِلم بلا شبہ خدا کی عظیم نعمت ، اطلاق مگر محض حصولِ دنیا تک ہی محدود ہو تو تباہی کے سوا کچھ نہیں۔جدید سائنس کی کچھ نا قابلِ یقین ایجادات اگر بہت سے سوالوں کا جواب پیش کرتی ہیں توکئی نئے سوال بھی چھوڑ جاتیں ہیں۔کیا اندھا دھند طاقت کے حصول کی دوڑ ہی طاقت کے توازن کی ضامن ہے؟ کیا مستقبل کی جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود رہ سکیں گیں؟اور کیا اپنے اپنے بچاؤ کیلئے کی جانیوالی تمام تدبیریں اصل میں کہیں ہم سب کی تباہی کا سامان تو نہیں؟
یہ آرٹیکل ایسے ہی کچھ سوالوں کا احاطہ کرنے کی ایک کوشش ہے کہ مستقبل کی کھوج اگر انسانی فطرت کا بے چین پہلو ہے تو راہِ عمل کے تعین کے لئے ایک ضروری حکمتِ عملی بھی ۔

1: سٹیلتھ فائیٹر جیٹ Stealth Fighter Jet

15دسمبر 2006 کو امریکی فضاؤں میں پہلی بار اڑان بھرنے والا F-35 Lightning II دنیا کا جدید ترین طیارہ مانا جاتا ہے۔یہ جدید سٹیلتھ ٹیکنالوجی کے اصولو ں کے مطابق تیار کیا گیا ہے ۔یہ فِفتھ جنریشن سے تعلق رکھتا ہے اور اب تک اس کے تین مختلف ماڈل متعارف کرائے جا چکے ہیں۔سٹیلتھ ٹیکنالوجی اور ایڈوانسڈ ایکٹرانک سسٹم کے استعمال کا مقصد طیارے کو پرواز اور حملے کے دوران مکمل طور پر پوشیدہ رکھنا ہے۔انتہائی جدید راڈار سسٹم کیلئے بھی اس طیارے کا کھوج لگانا تقریباً ناممکن ہے۔ تاہم روس میں سیون جنریشن سے تعلق رکھنے والے جدید ترین طیاروں پر تجربات جاری ہیں جو ایک اندازے کے مطابق 2028 پرواز کے لئے تیار ہونگے۔ساتویں پیڑھی سے تعلق رکھنے والے ان طیاروں میں مکمل سٹیلتھ ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی جو انہیں میدانِ جنگ میں راڈار سسٹم اور دشمن کی نگاہوں سے مکمل طور پر پوشیدہ رکھے گی ۔ ان طیاروں کی حدِ رفتار چھ ہزار پانچ سو کلو میٹر فی گھنٹہ تک ہوگی اور یہ تیس ہزار میٹر کی بلندی تک پرواز کر سکیں گیں ۔ یہ بناء پائلٹ کے اڑان بھر سکیں گیں اور ایرو ڈائنامکس کے جدید اصولوں کی بدولت انہیں ہوائی مزاحمت کا سامنا انتہائی کم ہوگا جو ں کی رفتار اور کارکردگی کو بہترین بنا دے گا۔

2: لیزر ٹیکنالوجی LASER Technology

امریکی فضائیہ 2019 ء تک سپر سانک جدید لیزر جیٹ استعمال کرنے کے قابل ہوگی جو امریکن ڈیفیس ٹیکنالوجی فرم نارتھروپ گرمن میں تیاری کے مراحل سے گزر رہے ہیں۔ استعمال کی جانوالی لیزر شعاعیں عام لیزر شعاعوں سے بہت مختلف اور طاقتور ہونگی۔ ان لیزر ہوائی مشینوں میں خود کار حفاظتی نظام ، الیکٹرانک سینسرز ، اپنے ٹارگٹ سے دوری اور حجم ماپنے کی صلاحیت اور جدید لیزر گنز سے کئی گنا زیادہ طاقتور لیزر شعاعوں کا استعمال ان ہتھیاروں کو ہوائی جہازوں اور میزائلوں کی تباہی کیلئے انتہا ئی موثر بنا دیگا ۔

3: مائیکرو ڈرونز Micro Drones

سوچیں آپ فوج میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں اور ملکی دفاع سے متعلق ایک اہم اور خفیہ مِیٹنگ میں شریک ہیں ۔ لیکن کیا آپ یہ تصور کر سکتے ہیں کہ ہزاروں میل دور بیٹھا آپ کا دشمن نہ صرف آپکی آواز سن رہا ہے بلکہ اس مِیٹنگ کی تمام کاروائی براہِ راست دیکھ رہا ہے۔
جی ہاں! ننھے منے کیڑوں ، مکھیوں اور مچھروں کے برابر اور ان سے بھی چھوٹی جسامت والے مائیکرو ڈرونز مستقبل کے کامیاب ترین جاسوس ہونگے۔یاد رہے ترقی یافتہ ممالک کی خفیہ ایجنسیاں ان ہتھیاروں کے استعمال کا آغاز کر چکی ہیں۔انہیں ہزاروں میٹر دور سے سگنلز کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ان ننھے جاسوسوں میں مائیکرو چِپس نصب ہوتیں ہیں جن پر لگے مائیکرو کیمرے اور رسیور آوازیں اور تصویریں ٹرانسفر کر تے ہیں۔

4: ذہین گولیاں Smart Bullets

دفاعی میدان میں عالمی شہرت رکھنے والی کمپنی DARPA کی تیار کردہ دس سینٹی میٹر لمبی ذہین گولی اپنے ٹارگٹ کے خاتمے تک اس کا پیچھا کرتی ہے اور اپنے ٹارگٹ کی حرکت کے مطابق اپنی سمت تبدیل کرتی ہے۔ایک سیکنڈ میں تیس مرتبہ اپنی سمت بدلنے کی صلاحیت رکھنے والی یہ ذہین گولی دی گئی ہدایات کے مطابق اپنی رفتار بھی کم یا زیادہ کرسکتی ہے۔ان گولیوں میں لگے آپٹیکل سینسرز اپنے ٹارگٹ اور اسکے ارد گرد کے ماحول کی خبریں اکٹھی کرنے اور انہیں منتقل کرنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔

5: جنگی لباس Battlesuit

سپیشل پولیمر دھاگوں سے بنے یہ لباس نہ صرف ہلکے اور آرام دہ ہونگے بلکہ یہ دشمن کی گولیوں کو بھی بے اثر بنا سکیں گے۔ ان میں استعمال کیے جانیوالے الیکٹریک سسٹمز، نیومَیٹکس ، ہائی پریشرہائیڈرولِکس ، سینسرز، کنٹرولرز اور دوسری جدید ٹیکنالوجیز اسے پہننے والے ایک فوجی کو سپر مین مین بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ ایک فوجی کی طاقت میں دس گنا تک اضافہ کر دیگا۔ وہ بھاری بھرکم سامان اٹھا سکے گا اور بنا تھکے کئی میل کا فا صلہ دوڑ کر طے کر سکے گا۔

6: مائیکرو چِپ ٹیکنالوجی Microchip Technology

اس ٹیکنالوجی میں مائیکرو چِپس پر نصب انتہائی چھوٹے اِنٹگریڈ کمپیوٹر سرکٹس استعمال کئے جاتے ہیں۔ یہ آلات انتہائی چھوٹے اور پیچیدہ ہوتے ہیں اور ان کی شناخت تقریباً نا ممکن ہوتی ہے۔ انہیں ریموٹ کنٹرول کی مدد سے ہدایات مہیا کی جا سکتی ہیں۔ترقی یافتہ ممالک جو دوسرے ممالک کو ہتھیا ر فروخت کرتے ہیں اپنے فروخت کیے جانیوالے ہتھیاروں، جہازوں اور ٹینکوں وغیرہ میں ان خفیہ چِپس کو نصب کر سکیں گیں ۔اسطرح دشمن کے قبضے میں موجود ہتھیاروں پر بھی کنٹرول پایا جا سکے گا یا انہیں ناکارہ بنایا جا سکے گا۔ یہ ٹیکنالوجی ان ممالک کیلئے انتہائی خطرناک ہے جو دوسرے ملکوں سے ہتھیار خریدتے ہیں۔
کچھ خاص قسم کی مائیکرو چِپس کا استعمال فوجیوں کے دماغوں میں نصب کرنے کیلئے کیا جائے گا جس سے ان کے دماغ سے جنگ کی وجہ سے پیدا ہونیوالے ذہنی دباؤ کو زائل کیا جاسکے گا اور ان کی جنگی جنون کو اپنی مرضی کے مطابق کم یا زیادہ کیا جاسکے گا۔ایسے فوجی عام فوجیوں سے کئی گنا زیادہ بہتر کارکردگی دکھا سکیں گے۔

7 نَینو ٹیکنالوجی Nano Technology

نَینو ٹیکنالوجی کے حوالے سے شہرت یافتہ کمنی آئی ۔ ایس ۔ این ( اینسٹیٹیوٹ آف سولجر نَینو ٹیکنالوجی) اکیسویں صدی میں جنگ کے تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے دورانِ جنگ نَینو ٹیکنالوجی کے استعمال کے جدید طریقوں پر کام کر رہی ہے۔ اس کا استعمال نہ صرف جدید ترین ہتھیار تیار کرنے میں معاون ہوگا بلکہ موجودہ ہتھیاروں کو بھی کئی گنا چھوٹا ، ہلکا اور موثر بنا دیگا جنہیں با آسانی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکے گا ۔ اس ٹیکنالوجی کا اصل مقصد فوج کے لئے ایسے ہتھیاروں اور لباس کی تیاری ہے اور ایک ایسے طریقہ جنگ کی تلاش ہے جو نقصان اٹھائے بغیر دشمن کے علاقوں میں زیادہ سے زیادہ تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

8 سیلف گائیڈڈ میزائل Self Guided Missile

اس میزائل میں لیزر گا ئیڈڈ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ میزائل نہ صرف ہدایات کے مطابق اپنا راستہ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ بنکروں ، مورچوں اور دیواروں کے پیچھے چھپے ٹارگٹ پر انتہائی درست نشانہ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ دشمن کے میزائلوں اور طیاروں کو فضا میں ہی تبا کرنے کا ایک موثر ہتھیار ہے۔

9: اِنوِیزِبل لباس Invisible Cloak

ؓبی۔ اے ۔ ای ۔ سسٹمز کا دفا کے میدان میں یہ ایک انقلابی قدم ہے اور مستقل میں دفاعی صنعت کا ایک شاہکار۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کیے جانیوالے ہتھیاروں ، ٹینکوں اور گاڑیوں کے فریم میں ایسا مواد اور سکرینز استعمال کی جائیں گی جو انہیں میدانِ جنگ میں اپنے ماحول سے ہم آہنگ کر کے ناقابل، شناخت بنا دیں گیں۔ ان گاڑیوں یا ٹینکوں میں ہائی ٹیک کیمو فلاج سسٹم کا استعمال کیا جائے گا جس میں شہد کے چھتے کی طرز پر بنائے گئے سیلز ان گاڑیوں کی تمام سطح کو ڈھانپے ہوئے ہونگے۔گاڑیوں میں نصب جدید کمپیوٹر سسٹم ماحولیاتی اطلاعات وصول کرنے کے بعد ریکارڈ تصویروں اور ویڈیوز کے مطابق سیلز یا پِگزلز کو کسی بھی صورت میں دکھا سکیں گے۔ مثلاً کوئی چھوٹی سی چٹان، گائے یا ایسا ہی کوئی اور جانور۔

10: سائبر اَٹیک Cyber Attack

اس جدید ہَیکنگ سسٹم کا استعمال دشمن کے سیٹیلائیٹ سسٹم، راڈار سسٹم اور دیگر تمام کمپیوٹرائزڈ سرکٹس کو غیر فعال بنا کر رکھ دیگا۔ اس سسٹم کو اپنی مرضی کے مطابق کسی ایک مخصوص علاقے یا بیک وقت کئی علاقوں میں استعمال کیا جا سکے گا۔
محترم قارئین!
یہ ان چند ٹیکنالوجیز کا ہلکا سا تعارف ہے جو مستقبل میں دنیا کے نقشے کا تعین کریں گی۔اور یہی وہ لمحہ فکریہ ہے جو ہمیں دعوت دیتا ہے یہ سوچنے کی کہ آنیوالے کل کیلئے ہمارا لائحہ عمل کیا ہے؟ کیا محض جذبات کی فراوانی ہی جیت یا ہار کا فیصلہ کرنے کیلئے کافی ہوتی ہے؟ علم اور عمل نہیں؟؟

azu1

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.